اسلام آباد(صباح نیوز) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں پھر الیکشن ہوں تاکہ دھاندلی نہ ہوسکے، اپوزیشن کی رائے نہیں لی گئی اور اسمبلی تحلیل کردی گئی، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جائے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ عمران خان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود کو وزیر اعظم کہہ سکیں یا سرکاری وسائل استعمال کریں، صدر مملکت کو باور کرادینا چاہتاہوں کہ پارلیمنٹ اور عوام کا موڈ آپ کے مواخذے کا بھی ہے۔انہوں نے ڈاکڑ عارف علوی کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ بھی اسی ناجائز اور تسلط پر مبنی ریجیم کا حصہ ہیں، صدر نے بھی کچھ نہیں دیکھا اور فوری اسمبلی تحلیل کردی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان نے مراسلہ(خط) کو سیکورٹی کمیٹی کے راز کو جس طرح افشاں کیا تم نے حلف سے غداری کی ہمارے اداروں کو سوچنا ہوگا کہ پاکستان مفروضوں پر مبنی الزامات اور پاکستان کی وفادارقیادت کو غداری کے نتائج کیا ہوں گے۔انہو ںنے کہاکہ چاہتے ہیں انتخابات ہوں لیکن آئین مجروح ہوچکا ہے، شفاف الیکشن کی ضمانت کے لیے اصلاحات کرائی جائیں،اس ماحول میں الیکشن میں جانے کا مطلب گدلے پانی میں جانا ہے ، بالکل بھی نرم رویہ اختیارنہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ایک آئینی بحران برپا کر دیا گیا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعظم کی ایماپر غیر آئینی رولنگ دی، عمران خان نے قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا، صدر نے بھی نہ آئو دیکھا نہ تائو دیکھا اور اسمبلی کو تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، ملک اس وقت ایک آئینی بحران میں ہے، آخری اور اٹل مطالبہ یہ ہے اور عدالت سے التجا ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حق دیا جائے،2018 ء کی حکومت دھاندلی سے بنی، پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں پھر الیکشن ہوں تاکہ دھاندلی نہ ہو، عمران نے مفروضے کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو بنیاد بنا کر اسمبلی تحلیل کر دی، یہ کھیل ناقابل برداشت ہے،اس کھیل کو نہیں چلنے دیںگے،نااہل اور نالائق حکمران کو منہ کے بل پھینک دیا جس وہ اب اٹھ نہیں پائے گا۔