اسلام آباد/ناروال (صباح نیوز+آن لائن) ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اینگرو کا نجی طیارہ حکومت مخالف ریلی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ اینگروکارپوریشن کا یہ اقدام انتہائی غیر پیشہ وارانہ ہے۔ ان خیالات کااظہار احسن اقبال نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ انتہائی غیرپیشہ وارانہ بات ہے کہ اینگرو کارپوریشن کا نجی جیٹ طیارہ ایک لیڈر کی جانب سے حکومت مخالف ریلی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور ان تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں کہ کیا یہ طیارہ چارٹرڈ تھا یا سپانسرڈ تھا۔ براہ مہربانی پبلک لسٹڈکمپنی ہونے کے ناطے اپنی حدود کو جانیں، یہ کوئی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ علاوہ ازیں احسن اقبال نے نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار آئینی جمہوری طریقہ کار کے مطابق کسی وزیر اعظم کو برطرف کیا گیا ہے، عمران نیازی پاکستان کے وہ بدقسمت وزیر اعظم تھے جنہیں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ان کے عہدہ سے برطرف کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کا پونے 4 سال کا اقتدار پاکستان کے سیاہ ترین ادوار میں یاد رکھا جائے گا، آپ کی پوری سیاست سودا گری کے اوپر ہے، آپ نے پارٹی، سینٹ کی ٹکٹیں بیچی، جاتے جاتے کشمیر میں اپنے کارکن کو وزیر اعظم بنایا تھا اسے ذبح کر کے کشمیر کی وزارت عظمی بھی بیچ گئے،بتائے کتنے میں سودا کیا ہے، اسلام آباد میں ہر شخص یہی بات کر رہا ہے؟ آپ نے کشمیر کے عوام کو جاتے جاتے نہیں بخشا ان کا بھی سودا کر کے چلے گئے ہیں، جو شخص ہر چیز میں سودا کرے وہ پاکستان کا ہیرو نہیں ولن ہو سکتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے مجھے یہ پکڑیں گے ہم آپ کو نہیں پکڑیں گے، آپ کو پاکستان کا آئین اور قانون پکڑے گا ،آپ نے گناہ پاکستان کے جامعات کرائم نیشن کے خلاف کیے ہیں، ہم آپ کو معاف نہیں کرسکتے، اس میں آئین قانون راستہ لے گا، نیازی صاحب قوم کے سامنے آزادی کے چیمپین بن رہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پرائم منسٹر پرائم بیگر بن گیا، وہ شخص جو پرائم بیگر تھا جو ہر ملک میں کشکول لے کر گھومتا تھا وہ جنگ آزادی کا ہیرو نہیں ہے وہ پاکستان کا میر جعفر میر صادق ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے کل جلسے میں کہا ہے دل پر چوٹ لگی ہے کہ رات کو عدالتیں کیوں کھلی ہیں، عمران نیازی صاحب 22 کروڑ عوام کے دل پر بھی چوٹ لگی ہے کہ آپ نے سولین مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ عوام بھی کبھی اپنے آئین پے جو آپ نے وار کیا تھا عوام نہیں بھلا سکیں گے، آپ آئین شکن وزیر اعظم کے طور پر لکھے جائیں گے، آپ نے اپنی ڈوبتی حکومت کو بچانے کے لیے پاکستان کے آئین کو توڑا تھا۔


