ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

روسی جرنیلوں کو نشانہ بنانے میں یوکرین کی مدد نہیں کی، امریکا

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے یوکرین جنگ کے دوران روسی جرنیلوں کی لوکیشن کے حوالے سے خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ پر ردعمل میں محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکا یوکرین کی فوج کو ملک کے دفاع میں بطور مدد ملٹری انٹیلیجنس فراہم کرتا ہے تاہم میدان جنگ میں موجود فوجی حکام کی لوکیشن کے حوالے سے معلومات مہیا نہیں کرتا اور نہ ہی ہدف کے انتخاب میں یوکرینی فوج کے فیصلوں میں شامل ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کی فوج کی جانب سے مارے جانے والے درجنوں روسی جرنیلوں میں سے زیادہ تر کو امریکی انٹیلیجنس کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ امریکا نے روسی افواج کے موبائل ہیڈ کوارٹر کے بارے میں یوکرین کو معلومات مہیا کی تھیں جس کی لوکیشن اکثر اوقات تبدیل کی جاتی تھی،اس کے علاوہ امریکی میڈیا نے رواں ہفتے ایک اور انکشاف بھی کیا کہ امریکا کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی خفیہ اطلاعات کے باعث گزشتہ ماہ ماسکوا نامی ایک روسی جنگی بحری جہاز کو تباہ کرنے میں مدد ملی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چند امریکی حکومتی عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرین نے امریکا سے بحر اسود میں موجود روسی جنگی بحری جہاز کی لوکیشن کے بارے میں پوچھا تھا جس کے بعد اس کی لوکیشن کی تصدیق ہوئی تھی۔

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یوکرین اس جہاز کو نشانہ بنائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں