ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی ٹی ایم رہنما و رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت منظور

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور وزیرستان سے منتخب ایم این اے علی وزیر کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور وزیرستان سے منتخب ایم این اے علی وزیر کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی گئی۔

سندھ ہائیکورٹ نے ضمانت کے عوض علی وزیر کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کاکہنا تھا کہ ملزمان محسن داوڑ، منظورپشتین اورڈاکٹر جمیل کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جب کہ مقدمے میں نامزد تین ملزمان کی ضمانت کو بھی چیلنج نہیں کیا گیا۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں تین مقدمات درج ہیں جن میں سے دو میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔

علی وزیر کے خلاف مقدمات شاہ لطیف اورسہراب گوٹھ کے تھانوں میں درج ہیں۔

ایم این اے محسن داوڑ نے ٹویٹ میں کہا کہ ‘سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کر لی شاہ لطیف ٹاؤن کیس میں آج جو ہم سب کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ تاہم اینٹی ٹیرارزم کورٹ میں ایک اور کیس میں علی کی ضمانت کی سماعت کل ہو گی۔ ہم عدالتوں سے انصاف کرنے کی امید کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اے ٹی سی سے انہیں ضمانت مل جائے گی۔

خیال رہے کہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر 31 دسمبر 2021 سے کراچی کی مرکزی جیل میں قید ہیں، انہیں اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت کی ہدایت پر پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ علی وزیر کو پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایات پر ریلی نکالنے پر گرفتار کیا گیا۔

اس سے قبل 16 دسمبر 2020 کو بھی سندھ پولیس کی درخواست پر علی وزیر کو پشاور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

انھیں چھ دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں