ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاک فوج کا سربراہ بے داغ اور اچھی شہرت کا حامل ہونا چاہیے ، مریم نواز

اسلام آباد: ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز +مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ محترم ہیں، پاکستانی فوج کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جو ہر قسم کے داغ سے پاک ہو۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کیس کو 10 ماہ ہوگئے لیکن نیب آج تک کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا اور کیس کو طویل کر رہا ہے، سابقہ دورِحکومت میں نیب کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونی چاہیے، اب نیب کے پاس کوئی جواب نہیں، اصل میں ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں، اگر میرے خلاف ثبوت ہیں تو مجھے سزا دیں، اگر ثبوت نہیں تو عدلیہ نیب کی اس زیادتی کا نوٹس لے، اور نیب کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے پاس 4 سال میں 4 سکینڈ کی کارکردگی بتانے کے لیے کچھ نہیں، ان کی کارکردگی نہیں ہے اس لیے خط اور سازش کی ضرورت پڑتی ہے، سابق وزیراعظم 4 سال میں پاکستان کو 400 سال پیچھے دھکیل کر گئے، اصل میں ملک کے خلاف سب سے بڑی سازش عمران خان کی شکل میں ہوئی ایسی سازش تو کوئی کرنیکی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جب تک ادارے سپورٹ کررہے تھے تب تک وہ سراج الدولہ تھے، جیسے اقتدار جاتا نظر آگیا تو آج کوئی میر صادق کوئی میر جعفر بن گیا، عمران خان اداروں کو خطرناک ہونیکی کھلی دھمکیاں دیتاہے، اداروں کونوٹس لینا چاہیے، اگر فوج کہتی ہے وہ آئینی حدود میں رہ کر کام کر ے گی تو یہ خوش آئند بات ہے، ایک ہی شخص کو فوج کے آئینی دائرے میں رہنے سے تکلیف کیونکہ اسے نقل کرنے کی عادت ہے، پاک فوج کے سربراہ محترم ہیں، پاکستانی فوج کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جو ہر قسم کے داغ سے پاک ہو۔لیگی رہنما نے مزید کہا کہ عمران خان جعلی ووٹوں سے آئے ہم نے تو پھر بھی آئینی طریقے سے گھر بھیجا، حکومت جاتے ہی پتا چلا کہ پنجاب عثمان بزدار نہیں فرح گوگی بنی گالا کی ملکہ عالیہ کے کہنے پر چلاتی تھیں، عمران کہتے ہیں مجھے نکالا تو میں خطرناک ہو جاؤں گا، عمران خان سیاسی شہید بننا بھی چاہے تو نہیں بن سکتا کیونکہ 4 سال کارکردگی ان کا منہ چڑا رہی ہے، وزراء کی کوشش کے باوجود ش اور ن ایک ہیں، جیسے ہی عمران کی کرسی ہٹی اسے اگلا الیکشن ہارتے ہوا نظر آ رہا ہے، میری پارٹی کو سوچنا چاہیے کہ عمران خان کے گناہوں کا ٹوکرا اپنے سر نہیں لینا چاہیے، موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے الیکشن واحد حل ہے، عوام سے کہتی ہوں کہ نواز شریف کو دو تہائی اکثریت دیں، تاکہ ہم ملک کی تقدیر بدل سکیں، مخلوط حکومت مختصر وقت میں فیصلے نہیں کرسکتی۔

 

 

کیٹاگری میں : زمرے کے بغیر

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں