پی ٹی آئی نے قرضے لینے کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے،، پاکستان کے مجموعی قرضوں میں ساڑھے تین سال کے دوران ہی 23 ہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا گیا،، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے 10 سال میں ملک کے قرضوں میں مجموعی طور پر اتنا اضافہ کیا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2022 کے اختتام پر پاکستان کے قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 53 ہزار 544 ارب 30 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،، ستمبر کے اختتم پر قرضوں کا مجموعی حجم 30 ہزار 798 ارب روپے تھا،ساڑھے تین سال کے دوران ملکی قرضوں اور واجبات میں 22 ہزار 746 ارب ارب روپے کا رکارڈ اضافہ ہوا۔۔۔ پی ٹی آئی کے دور میں مجموعی طور پر قرضوں میں اوسطا 17 ارب 80 کروڑ روپے یومیہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو ن لیگ کی یومیہ اوسط سے 140 فیصد زیادہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق مسلم لیگ ن کے پورے دور یعنی 5 سال میں پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں مجموعی طور پر 13 ہزار 541 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا،، جون 2013 سے جون 2018 تک قرضوں کا مجموعی حجم 16 ہزار 338 ارب روپے سے بڑھ کر 29 ہزار 879 ارب روپے تک پہنچ گیا۔۔ ن لیگ کے دور میں مجموعی طور پر قرضوں میں اوسطا 7 ارب 41 کروڑ روپے یومیہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے اقتدار میں 2008 سے جون 2013 تک 5 سال میں پاکستان کے مجموعی قرضوں اور واجبات میں 9 ہزار 838 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا،اور اس دوران قرضوں کا مجموعی حجم6 ہزار 500 ارب روپے سے بڑھ کر 16 ہزار 338 ارب روپے ہو گیا، پیپلز پارٹی حکومت میں مجموعی طور پر قرضوں میں اوسطا 5 ارب 38 کروڑ روپے یومیہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔