صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ سویڈن کی جانب سے ترکی پر عائد کردہ اسلحہ کی پابندیوں کو ہم ایک طرف نہیں چھوڑ سکتے۔
صدر ایردوان نے گیولجیوک ڈاک یارڈ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔
ترکی کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل آبدوزوں کے انتہائی متاثر کن ہونے پر زور دینے والے جناب ایردوان نے کہا کہ "رواں سال سے شروع کرتے ہوئے ہر برس ایک آبدوز کو پانیوں میں اتارا جائیگا اور سال 2017 تک چھ عدد آبدوزیں ترک بحری بیڑے میں شامل ہو جائینگی۔”
انہوں نے کہا ہمارے ملک نے تاریخ کے کسی بھی دور میں ہرجانہ ادا کیے بغیر ملکی امکانات حاصل نہیں کیے ہم انتہائی کٹھن جدوجہد کر رہے ہیں۔ جب داعش ہمارے سرحدی علاقوں پر راکٹ داغ رہی تھی تو ان ایام میں یہ اپنے فضائی دفاعی نظام کو اکھاڑ کر لے گئے تھے۔ ہمیں معاوضے کے ساتھ فراہم نہ کردہ اسلحہ کو خونی تنظیم PKK کو داعش کے خلاف نبرد آزما ہونے کی آڑ میں دیا گیا۔ ترکی کا دہشت گرد راہداری کے ذریعے محاصرہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوست تصور کردہ ممالک کی خیانت اور اتحادیوں کی چالوں کے باوجود ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ ترکی کو دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور چالیس سالہ انسداد دہشت گردی کی جنگ میں اتحادیوں سے متوقع تعاون نہ مل سکا۔”
سویڈن کی نیٹو رکنیت درخواست کا بھی ذکر کرنے والے ترک صدر نے بتایا کہ "ہم سویڈن کی ہم پر عائد کردہ ہتھیاروں کی پابندی کو نظر انداز نہیں کرسکتے ، اس چیز کی قابل قبول وضاحت موجود نہیں۔ نیٹو میں ہمارا کردار بالکل عیاں ہے تو تا حال ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ پابندیوں کو ہٹائے جانے کی بات کررہے ہیں۔ ہماری توقعات کو پورا کیا جانا چاہیے اور متعلقہ ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے چاہییں۔