ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صحافی عارف یوسفزئی نے سخت سوالات کی بوچھاڑ کردی، عمران خان برا منا گئے

پشاور کے صحافی عارف یوسفزئی نے پی ٹی آئی چیئرمین کے سامنے حقیقت پر مبنی سوال رکھے تو عمران خان نے ان کا جواب دینے کی بجائے کہا کہ میں تمہیں بڑا سخت ردعمل دے سکتا ہوں لیکن نہیں دوں گا اور غصے میں پریس کانفرنس ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
عمران خان نے صحافی سے کہا کہ آپ نے بڑی غلط باتیں کی ہیں۔ ایک غلط قسم کی تقریر کر دی ہے، یہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔ ہم ملک کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نفرتیں پھیلانا چاہتا تو کل جو حالات تھے تو وہاں نفرتیں تب دیکھنی تھیں کیسے پھیلنی ہیں۔ اس دوران عمران خان غصے میں آگئے اور پریس کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے اور صحافی کو بھی کچھ کہتے رہے۔

دراصل صحافی عارف یوسفزئی نے عمران خان سے کہا تھا کہ آپ تحریک چلائیں پاکستان کو فتح کریں اور دوبارہ عوام کی خدمت کریں لیکن جو نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست ہے اس حوالے سےورکرز کو کوئی پیغام دیں گے؟

صحافی نے کہا تھا کہ گلی گلی اور کوچے کوچے میں آرمی جنرلز کو گالیاں دے رہے ہیں۔ اب یہ تربیت کس نے دی؟ ٹویٹر پر یہ کون لوگ ہیں؟ پی ٹی آئی کے لوگ ہیں؟ آپ اپنے ورکرز کو پاکستان کے اداروں بالخصوص آرمی اور عدلیہ کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ آپ نے کہا تھا کہ یہ پیغام کان میں پہنچا دیں، میرے خیال سے کان میں پہنچ چکا ہے اور گالیاں پڑ رہی ہیں۔ اب عوام توقع کر رہے ہیں آپ اپنے ورکر کی تھوڑی سی تربیت کرلیں۔

انہوں نے مزید سوال کیا کہ آپ کی ٹیموں نے ماضی میں یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیر سے پاکستان فتح کرنے کی کوشش کی۔ پختونخوا کے صحافیوں کو آپ لوگ بھلا چکے تھے۔ اب یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیرز سے امریکا اور یورپ اور نیٹو کے ممالک افغانستان نہیں فتح کر سکے، آپ اسلام آباد کیا فتح کریں گے؟

عارف یوسفزئی نے کہا تھا کہ لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں۔ آپ کے ساتھ جاتے بھی ہیں لیکن نہ لوگوں نے وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں گرتی دیکھیں۔ نہ لوگوں نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرتے دیکھیں۔ نہ لوگوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں یونیورسٹیاں دیکھیں۔ نہ لوگوں نے چوروں کو لٹکتے ہوئے دیکھا۔ آپ لوگوں کو دوبارہ انگیج کرکے اسلام آباد چڑھائی کرنے جائیں گے تو کون سا نیا نعرہ ہے؟

اس پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اس کا بڑا سخت جواب اور ردعمل دے سکتا ہوں لیکن وہ نہیں دوں گا۔ ہم نے چیف جسٹس کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں سازش واضح ہے۔ ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں دیکھ سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کر سکا۔ کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں، لوگ فالو نہیں کرتے تو کل ختم ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے عوام کو آواز آ گئی ہے جس کے پاس فون ہے اس کے پاس آواز ہے اور وہ اپنی آواز سامنے رکھ لیتا ہے۔آپ نے باتیں غلط کی ہیں بالکل غلط کی ہیں اور ایک غلط قسم کی تقریر کردی ہے، یہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں