منی لانڈرنگ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توثیق کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے کے مطابق وزیر اعظم اور وزیراعلی کے خلاف رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے شواہد میسر نہیں ہیں۔ جج اعجاز حسن اعوان نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش مکمل اور چالان جمع کرایا جاچکا ہے لہذا دوبارہ گرفتاری سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دونوں رواں سال 27 جنوری سے عبوری ضمانت پر رہا ہیں۔وزیراعظم سرکاری مصروفیت کے باوجود مسلسل پیش ہوتے رہے ہیں۔ ان پر ضمانت کے ناجائز استعمال کا بھی کوئی الزام نہیں ہے۔ فیصلے کے مطابق نیب کی حراست کے دوران جیل میں ان سے 18 دسمبر 2020 اور 8 جنوری 2021 میں دو بار تفتیش ہوئی۔ اس تفتیش کے بعد ایف آئی اے 5 ماہ خاموش رہی۔ نیب ریفرنسوں میں ضمانت کے بعد انہیں تفتیشی ٹیم کے روبرو پیش ہونے کا کہا گیا جس سے ایف آئی اے کی بدنیتی کا اظہار ہوتا ہے۔