غذائی بحران کے حل اور یوکرین کی بندرگاہوں پر محصور اناج سے لدے بحری جہازوں کے اخراج کے لئے ترکی اور روس کے فوجی وفود کے درمیان کل روس کے دارالحکومت ماسکو میں اجلاس ہوا۔
موصول معلومات کے مطابق اجلاس میں "مسئلے کے حل کے لئے ترکی، روس، یوکرین اور اقوام متحدہ کے وفود کے درمیان مذکرات پر” اتفاق کیا گیا ہے۔
روس۔یوکرین جنگ کے پیدا کردہ غذائی بحران کے حل کے لئے ترکی کی طرف سےشروع کردہ سفارتی کوششوں اور وزیر دفاع حلوصی آقار کے اپنے روسی اور یوکرینی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد ترکی، یوکرین اور روس کے درمیان جاری "ریڈ لائن ڈپلومیسی” نے مثبت نتائج دینا شروع کر دئیے ہیں۔
اس دائرہ کار میں غذائی بحران کے حل، یوکرین کی بندرگاہوں پر خروج کے منتظر اناج سے لدے جہازوں کے اخراج اور بوریسپول ائیر پورٹ پر کھڑے ترک مسلح افواج کے طیاروں کی بحفاظت ترکی واپسی کے موضوعات پر بات چیت کے لئے ترکی وزارت دفاع سے ایک فوجی وفد کل روس پہنچا۔
"ریڈ لائن ڈپلومیسی” کے ذیل میں متعین کئے گئے ترک اور روسی جرنیلوں کی زیرِ قیادت فوجی وفود کے درمیان ماسکو میں مذاکرات ہوئے جنہیں مثبت قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں سب سے پہلے یوکرین کی بندرگاہوں سے اناج سے لدے بحری جہازوں کے خروج کے مسئلے پر بات چیت کی گئی اور مسئلے کے حل کے لئے ترکی، روس، یوکرین اور اقوام متحدہ کے درمیان مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کا اظہار کیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ اس سلسلے کا اگلا چہار فریقی اجلاس آئندہ ہفتوں میں ترکی میں ہو گا۔
دوسری طرف ماسکو میں منعقدہ اجلاس کے اوّلین ٹھوس نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اجلاس سے چند گھنٹے بعد کئی روز سے یوکرین کی بندرگاہ پر کھڑا ترکی کا ڈرائی کارگوبحری جہاز بندرگاہ سے روانہ ہو گیا ہے۔”آزوو کونکرڈ” نامی مذکورہ ترک بحری جہاز ، روسی فوج اور علیحدگی پسندوں کے زیرِ کنٹرول یوکیرینی بندرگاہ ماریوپول سے لنگر اٹھانے والا پہلا غیر ملکی بحری جہاز ہے۔