ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

انڈیا: توہین مذہب کا الزام، ہندو درزی کا گلا کاٹ دیا گیا، موقع پر ہلاک

انڈین ریاست راجستھان کے ضلع ادھے پور میں منگل کی سہ پہر تقریباً 3.30 بجے ایک شخص کا تلوار سے سر قلم کرکے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد ادھے پور میں ماحول کشیدہ ہے۔ پولیس علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ایم ایل لاتھر نے کہا، "اس واقعہ میں ملوث دو افراد کو راجسمند ضلع کے علاقے بھیم سے حراست میں لیا گیا ہے۔ کشیدہ حالات کے باعث ایک درجن تھانوں کی پولیس موقع پر تعینات ہے۔

ادھے پور کے ضلع مجسٹریٹ تاراچند مینا نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق قتل کے بعد ادھے پور کے کچھ علاقوں میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ سفاکانہ قتل ہے، دو گرفتار ہیں جبکہ کچھ دیگر ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے۔ پولیس ٹیمیں ملزمان کی تلاش میں ہیں۔ ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی”۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام لوگوں کے ریکارڈ کو دیکھ رہے ہیں، فی الحال ہم موقع پر ہی صورتحال کو سنبھال رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک نوپور شرما کے حق میں پوسٹ لکھنے والے شخص کو مارنے پر اکسا رہا ہے۔ اس شخص کا نام کنہیا لال تیلی ہے جو ادھے پور کے علاقے دھان منڈی میں درزی کی دکان چلاتا تھا۔

منگل کی دوپہر دو لوگ کپڑے سلانے کے بہانے اس کی دکان پر پہنچے اور اسے دکان سے باہر لے آئے اور تلوار سے اس کی گردن کاٹ دی۔ کنہیا لال کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔

اس واقعے کے بعد سے ہندو تنظیموں میں غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے شہر کے بازار بند کرادئیے ہیں۔ راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی اس قتل عام کے بعد تمام جماعتوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ "ادھے پور میں نوجوان کے گھناؤنے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ تمام قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور پولیس جرم کی پوری حد تک جائے گی۔ میں تمام فریقوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ایسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہر شخص کو سخت سزا دی جائے گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ "میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ویڈیو شیئر کرنے سے معاشرے میں نفرت پھیلانے کا مقصد کامیاب ہو جائے گا۔”

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں