ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان کیخلاف کوئی صحافی ٹویٹ کرتا تو اسٹیبلشمنٹ سے دھمکیاں دلوائی جاتی تھیں: رئوف کلاسرا

سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کیخلاف کوئی صحافی ٹویٹ کرتا تھا تو اسٹیبلشمنٹ سے دھمکیاں دلوائی جاتی تھیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رئوف کلاسرا نے کہا کہ سب کو یاد ہے کہ عمران خان نے صحافیوں کیخلاف اسٹیبلشمنٹ کو کس طرح استعمال کیا تھا۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم تمام جرنلسٹوں کے ٹویٹس کو مانیٹر کرتی تھیں کہ فلاں فلاں ٹویٹ ہماری حکومت کیخلاف کیوں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ لوگ ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کرنے کی خود کوشش کرتے تھے لیکن جب ناکام ہوتے تو پھر آبپارہ کی مدد لی جاتی تھی کہ فلاں فلاں جرنلسٹ کو فون کرکے کہیں کہ فوری طور پر ٹویٹ کو ڈیلٹ کر دے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بڑے بڑے صحافیوں کو فون کرکے دھمکیاں دی جاتی تھیں کیونکہ خان صاحب چاہتے تھے کہ ان ٹویٹس ہٹایا جائے۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ٹی وی شوز اور کالم تو ایک طرف عمران خان کے دور میں کوئی صحافی پی ٹی آئی حکومت کیخلاف کھل کر ٹویٹ نہیں کر سکتا تھا۔

رئوف کلاسرا نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ مغرب کی مثالیں دیتے ہیں لیکن کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ برطانوی وزیراعظم اپنے ایجنسیوں کو کہے کہ ان کیخلاف ٹویٹ کو ہٹوایا جائے۔ ایک اچھے وزیراعظم تو کبھی میڈیا اور عدلیہ پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ ان دونوں نے ہی بعد میں ان کے کام آنا ہوتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں