کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اچانک سے کورونا یا بارش کا بہانہ بنا کر بلدیاتی انتخابات کا مؤخر کیا جانا دراصل الیکشن مخالف جماعتوں کا خوف ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم و بیش ڈھائی برس سے مخالفین نے اس معاملے کو تاخیر کا شکار بنا رکھا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ کے 16 حلقوں میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے جانے پر حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ الیکشن کمیشن ہی کے کہنے پر ہو رہا تھا جب کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے، جس نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہونے چاہییں اور بروقت ہونے چاہییں۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، جی ڈی اے، ن لیگ مشترکہ طور پر ہائی کورٹ میں گئے تھے کہ کسی طرح بلدیاتی انتخابات کو مؤخر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے یہ لوگ خود اپنی کارکردگی کی وجہ سے خوفزدہ بھی ہیں اور شہریوں کے ساتھ کیے گئے سلوک کی وجہ سے بھی ان کا خوف نظر آ رہا تھا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لوگ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، وہ خوب جانتے ہیں کہ کراچی کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں جماعت اسلامی کا میئر ہو۔ جماعت کی ٹیم ہو جو اسے ری بلڈ کرے کیونکہ بہت زیادہ خرابی ہو چکی ہے۔ اب از سر نو تعمیر کا آغاز ہو جانا چاہیے۔