ترکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کو "حقائق سے دُور، غیر منصفانہ اور ناحق” فیصلہ قرار دیا اور کہا ہے کہ ہم، اس ناانصافی کے خاتمے کے لئے شمالی قبرصی حکام کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
ترکی وزارت خارجہ کے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے جزیرہ قبرص میں متعین مشن کی ڈیوٹی مدت کو کل 2646 نمبر کے فیصلے کے ساتھ مزید 6 ماہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ فیصلے کے لئے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی رضامندی نہ لیا جانا اقوام متحدہ کے مشن اقدامات کے برعکس اور قبرصی ترکوں کے محصلہ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہمارا ملک، اس ناانصافی کے خاتمے کے لئے شمالی قبرصی ترک حکام کی طرف سے اعلان کردہ، تمام اقدامات کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا”۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ” کونسل کا فیصلہ ہمیشہ کی طرح حقائق سے بے بہرہ، غیر منصفانہ اور ناحق فیصلہ ہے۔ اس فیصلے میں قبرصی ترک عوام کو ، اس کے محصلہ حقوق کو ، اس عوام کو تنہا کرنے کے لئے کئے جانے والے غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات کو نظر انداز کیا گیا ۔ ہم، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری سے دوبارہ اپیل کرتے ہیں کہ جزیرے میں حقائق پر توجہ مرکوز کی جائے اور قبرصی ترک عوام کے مساوی خودمختاری اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کے محصلہ حقوق کی نمائندگی کی جائے”۔
واضح رہے کہ جزیرہ قبرص میں اقوام متحدہ امن فورس مشن کی تعیناتی مدت 31 جولائی کو ختم ہو رہی تھی جسے اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے کل، جنوری 2023 تک بڑھا دیا تھا۔
اقوام متحدہ امن فورس کو 1964 میں، سلامتی کونسل کے فیصلے کے ساتھ اور 796 فوجی اور 65 پولیس اہلکاروں کی شرکت سے، قبرص میں متعین کیا گیا تھا۔
جزیرہ قبرص 1974 سے شمال میں ترکوں اور جنوب میں یونانیوں کے شکل میں 2 حصوں میں منقسم ہے۔ 2004 میں قبرصی یونانیوں نے اقوام متحدہ کے پیش کردہ ،جزیرے کے دونوں حصوں کو متحد کرنے پر مبنی، پلان کو مسترد کر دیا تھا۔