ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ

پاکستان نے اپنی جوہری تنصیبات اورسہولتوں کی ایک فہرست آج اسلام آباد میں بھارت کے سفارتی مشن کے حوالے کی ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں حریف ہمسایہ ممالک دہائیوں پرانے معاہدے کے تحت نئے سال کے آغاز کے موقع پراپنی اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہیں۔

دونوں ہمسایہ ممالک نے تین جنگیں لڑی ہیں اور حالیہ  سالوں میں ان کے درمیان متعدد فوجی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

گزشتہ سال بھارت کی جانب سے داغا گیا میزائل حادثاتی طور پر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آگراتھا جس نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔

اسلام آباد میں دفترخارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں جوہری تنصیبات اورمقامات کی فہرست وزارت خارجہ میں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کو باضابطہ طور پر سونپ دی گئی ہے۔

اس میں مزیدکہا گیا ہے کہ  سال1988 میں دونوں کے درمیان دستخط شدہ معاہدے کے تحت ، فہرستوں کا تبادلہ ہر سال یکم جنوری کو کیا جاتا ہے۔بھارت نے بھی بیک وقت نئی دہلی میں پاکستانی مشن کو اپنی جوہری تنصیبات کی ایک فہرست حوالے کی ہے۔

بھارت اور پاکستان نے 2008 کے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

پاکستان نے حراست میں لیے گئے 705 بھارتیوں، 51 عام شہریوں اور 654 ماہی گیروں کی فہرست شیئر کی ہے جبکہ بھارت نے اپنی تحویل میں موجود 434 پاکستانیوں،339 عام شہریوں اور 95 ماہی گیروں کی فہرست جاری کی ہے۔

واضح رہے کہ فہرستوں کے تبادلے کاعمل یکم جنوری سن 1992ء سے جاری ہے۔

چین کی مدد سے پاکستان نے حال ہی میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان نے پہلی بار  سن 1998 میں باضابطہ طور پر جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کیا تھا اور اس کے بعد سے اس نے بھارت کی طرح جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں کا ایک اہم ذخیرہ تیار کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں