لاہور: امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی 8مارچ کو عالمی یوم خواتین ملکی سطح پر منائے گی۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسلام عورت کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے، معاشرہ میں حقوق و فرائض کے توازن کو قائم رکھنا مضبوط خاندان کی بنیاد ہے اور مضبوط خاندان ہی عورت کے تحفظ اور نسل نو کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے، پارلیمنٹ میں تحفظ نسواں کے متعدد بل منظور ہونے کے باوجود معاشرتی ناانصافیوں اور جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی عورتوں پر ظلم کے خلاف چوکوں، چوراہوں اور ایوانوں میں آواز بلند اور ان کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی 8مارچ کو عالمی یوم خواتین ملکی سطح پر منائے گی۔
ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد میں خواتین ریلی کی قیادت کروں گا، لاہور کراچی سمیت تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت ریلیاں، جلسے منعقد کیے جائیں گے، جب تک قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں شاہی گھرانوں کے شہزادے، شہزادیاں جائیں گے، خواتین سمیت کسی کو ان کے حقوق نہیں ملیں گے، معاشرہ کی عام عورت اور مرد ایوانوں میں پہنچیں گے تو عوام کے لیے مثبت فیصلے اور قانون سازی ہو گی، اس وقت ملک میں اندھیرنگری چوپٹ راج نظام رائج ہے، ان حالات میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جدوجہد اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ملک کی واحد پارٹی ہے جس میں خواتین ووٹ حاصل کر کے مرکزی شوریٰ کا حصہ بن رہی ہیں اور ان کا الگ مکمل تنظیمی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔ جماعت اسلامی خواتین کے حقوق کی ترجمان جماعت ہے جو عورتوں کے لیے ایک مکمل پروگرام رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف، قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ثمینہ سعید، عائشہ سید، عافیہ سرور، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، بیگم سراج الحق، ڈاکٹر حمیرا طارق، عطیہ نثار، بشریٰ صادقہ، سکینہ شاہد، تسنیم معظم، عالیہ منصور، رخشندہ منیب، ربیعہ طارق، تسنیم سرور اور شازیہ عبداللہ سمیت دیگر خواتین رہنما بھی موجود تھیں
۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی خواتین کے حقوق کے لیے میدان اور ایوان میں جنگ لڑے گی، آج پاکستان میں عورت ظلم کا شکار ہے اس کو ملازمت کے لیے پُرسکون ماحول میسر نہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ دین اسلام اور نبی اکرمۖ نے عورت کو جو تکریم دی اس کے مطابق عورت کووراثت میں حق دیا جائے، گھریلو تشدد پر سخت قوانین بنا کر قرار واقعی سزائیں دی جائیں، خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ درندگی کے مرتکب درندوں کو نشان عبرت بنایا جائے، سندھ و بلوچستان میں نجی جیلوں اور قید خانوںمیں بند عورتوں کو بازیاب کرایا جائے، بنکوں سے عورتوں کو بلاسود قرض فراہم کیے جائیں تاکہ خواتین اپنے گھروں میں معاشی یونٹ لگا کر اپنے خاندان اور ملک کو خوشحال بنا سکیں۔
