امریکا نے 9/11 حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گوانتاناموبے جیل میں قید سعودی انجینئر کو 21سال بعد رہا کردیا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق 48سالہ غسان ال شربی کو مارچ 2002 میں القاعدہ کے کارکن سمیت پاکستان کے شہر فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے ایریزونا کی ایروناٹیکل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے دو افراد 9/11 حملوں میں طیارہ اغوا کرنے والے القاعدہ کا کارکنان تھے۔
امریکی فوج نے غسان الشربی اور دیگر پر الزامات عائد کیے تھے لیکن 2008 میں ان پر سے یہ الزامات ہٹا لیے گئے تھے۔ تاہم الزامات ہٹانے کے باوجود انہیں کیوبا میں گوانتاناموبے کی جیل میں قید رکھا گیا تھا اور ان کے بارے میں کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا تھا کیونکہ نہ تو ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے اور نہ ہی رہا کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق غسان الشربی کی رہائی کے بعد اب گوانتاناموبے میں موجود قیدیوں کی تعداد صرف 31 رہ گئی ہے جبکہ ایک وقت میں بدترین انسانیت سوز تشدد کے لیے مشہور اس مرکز میں 800 سے زائد افراد قید تھے۔ ان میں سے 17 کی رہائی کی منظوری دی جا چکی ہے البتہ پنٹاگون اب دیگر ممالک کو ان کی منتقلی کے حوالے سے ان کی آمادگی کا منتظر ہے۔
