بھارت میں انفلوئنزا وائرس کی ایک قسم H3N2 سے 2 اموات ہوئی ہیں جو کہ اس وائرس سے ملک میں پہلی اموات ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شہروں میں کورونا کے بعد انفلوئنزا کی دو مہلک اقسام نے سر اُٹھانا شروع کردیا ہے۔ اسپتالوں میں داخل 90 فیصد مریض انفلوئنزا کی اقسام H3N2 اور H1N1 میں مبتلا ہیں۔
بھارتی ریاست کرناٹک میں انفلوئنزا سے ایک 82 سالہ شخص جب کہ ریاست ہریانہ میں 60 سالہ شخص کی موت واقع ہو گئی ہے، بتایا گیا ہے کہ ان دونوں کو کورونا جیسی علامتیں ظاہر ہونے پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
یہ دونوں مریض ایک ماہ سے نزلہ، کھانسی اور بخار میں مبتلا تھے، جبکہ ایک شخص ذیا بیطس اور ہائپر بلڈ پریشر کے مرض میں بھی مبتلا تھا۔
اس بیماری کو ہانگ کانگ فلو بھی کہا جاتا ہے۔ دائمی امراض جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کمزور مدافعت میں مبتلا افراد کے لیے انفلوئنزا H3N2 اور H1N1 اقسام کافی خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
حکام نے اعلان کیا کہ ملک میں تقریباً 90 افراد میں "H3N2” وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس مہینے کے آخر تک کیسز کی تعداد کم ہو جائے گی۔
دوسری جانب چین کے شہر شیان میں فلو کیسز میں اضافے کے بعد لاک ڈاؤن لگا دیا اور تمام اسکول بند کردیے گئے۔ کورونا کے بعد پہلی بار کسی بیماری کے باعث لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔
سوائن فلو سے زیادہ خطرناک بتائے جانے والے H3N2 کی علامات میں بخار، گلے میں خراش، تھکاوٹ، بڑے پیمانے پر پٹھوں اور جوڑوں کا درد سمیت شدید کھانسی شامل ہیں۔