لاہور:امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں رواں سال کے ساڑھے چھ ماہ کے دوران معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 161واقعات کا پیش آ نا قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے۔
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جب تک ان حیوان نما انسانوں کودوسروں کے لئے مقام عبرت نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک یہ گھناونا جرم ختم نہیں ہو گا، اللہ اور اس کے رسول ۖ کے احکامات سے دوری کے نتیجے میں معاشرہ بے راہ روی کی جانب چل پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5سال میں 15ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس کی روک تھام کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی شرمناک ہے ۔ روزانہ اوسطاً 10خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے مگر مجرمان قانون کی گرفت سے باہر ہیں، حکومت صرف قانون بناتی ہے مگر اس پر عملدر آمد نہیں کرواتی۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف پنجاب میں گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین کے ساتھ زیادتی کے 7ہزار سے زائد واقعات ہوچکے ہیں، جرائم میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ تو مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ ملک میں اس وقت جو خوفناک مہنگائی موجود ہے وہ سفید پوش طبقے کیلئے بھی ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔