ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات تشویش ناک ہیں، لیاقت بلوچ

لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سیاسی، نتخابی قومی امور قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ  نے جمعیت علمائے اسلام باجوڑ ورکرز کنونشن پر خودکش دہشت گردحملہ کی شدید مذمت کی اور 44بے گناہ علما، کارکنان کی شہادتوں اور 200سے زائد کارکنان کے شدید زخمی ہونے کو قومی المیہ اور سوگ قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کے قائدین و کارکنان سے تعزیت، صدمہ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ژوب میں سراج الحق پر خودکش دھماکہ کے بعد باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے پروگرام پر دہشت گرد حملہ معنی خیز، المناک اور دور رس اثرات کا حامل ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاکستان میں دینی جماعتوں کو غلبہ دین کی جدوجہد سے کوئی دہشت گرد طاقت نہیں روک سکتی، چین اور پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ، امریکا، بھارت کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے، چین کی قیادت کے پاکستان دورہ کے موقع پر منظم ٹارگٹڈ دہشت گردی کے واقعات عیاں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ   خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات تشویش ناک ہیں، قومی و صوبائی حکومتیں اور سیکیورٹی فورسز قوم کے سامنے جوابدہ ہیں کہ انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے کہاں کمزوریاں ہیں اور ناکامیاں کیوں ہیں؟

رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ  ژوب میں سراج الحق کے کارواں پر خودکش حملے کی تحقیقات کا کچھ پتا نہ چلا، اب باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن کو خون میں نہلا دیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قومی ایکشن پلان پر بلا امتیاز عمل کیا جائے، سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ادارے سیاسی انجینئرنگ کی بجائے اپنی پوری توجہ قومی سلامتی اور ملک و ملت کی ترجیحات پر رکھیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ  سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، دشمن کے ہر حربے کو قومی وحدت اور بروقت موثر اقدامات سے روکا جائے اور ناکام بنایا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں