واشنگٹن: امریکی ادارہ برائے مذہبی آزادی کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 76 برس کے دوران ہزاروں مساجد اور چرچ ہندو انتہا پسندی کا نشانہ بنے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ادارے کی رپورٹ میں بھارت کی ہندوانہ دہشت گردی سے پردہ اٹھاتے ہوئے مزید بتایا گیا ہے کہ وہاں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے حملے کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1947ء سے اب تک 76 سال کے دوران 50 ہزار مساجد، 20 ہزار سے زائد گرجا گھر اور دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہیں ہندو انتہا پسندوں کی نفرت اور تعصب کا نشانہ بن چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسند جماعت وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور آر ایس ایس بھارت میں حکومتی آشیر باد سے اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں میں پیش پیش ہیں۔ مودی سرکار میں حلال جہاد، گئو رکھشا، بلڈوزر پالیسی، شہریت اور حجاب بندی جیسے قوانین کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ مذہب تبدیلی سے متعلق قوانین کو ہندوؤں اور بدھ مذہب کی پیروکاروں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسندوں نے ایودھیا میں صدیوں پرانی تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا تھا اور ہزاروں مسلمان ہندو انتہاپسندوں کے حملوں میں شہید ہوئے تھے۔ شاہی عیدگاہ مسجد، شمسی مسجد اور گیان واپی مسجد سمیت درجنوں عبادت گاہوں پر ہندو انتہا پسندوں کے قبضے کے دعوے عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسندوں نے 2017 میں مشہور زمانہ دنیا کے عجائب میں شامل تاج محل کے بھی شیو مندر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بھارتی فوج نے 1984 میں امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل پرٹینکوں اور توپوں سمیت چڑھائی کردی تھی جس کے بعد سکھوں کے پرہونے والے حملوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
منی پور میں جاری حالیہ فسادات میں 400 سے زائد چرچ نذر آتش کیے جا چکے ہیں جب کہ 2008 میں ہندو انتہاپسندوں نے مسیحیوں کے 600 گاؤں اور 400 چرچ جلا ڈالے تھے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جگہوں کے نام ہندو طرز پر تبدیل کرنا، بلڈوزر پالیسی اور مساجد کی مندروں میں تبدیلی بی جے پی کی جانب سے بھارت کی تاریخ دوبارہ رقم کرنے کی کوشش ہے۔
