اسلام آباد : نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی چیف جسٹس کی مدت میں ممکنہ توسیع اور ججز کی مدت ملازمت کے حوالے سے عمر میں اضافے کی مخالفت کی جائے گی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام تحفظ آئین پاکستان کیسے اور کیوں؟” کے عنوان سے قومی سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست اور جمہوریت سے رول ختم ہونا چاہیے، اب اگر کوئی فیصل مسجد کے مینار پر کھڑا ہوکر پریس کانفرنس کرے تو اسے کوئی نہیں مانے گا۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی قیادت نے پاکستان کی جمہوری قیادت کرنا ہے فوج نے نہیں ،ہم اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر ہونے والے انتخابات کو مانیں گے، سیاسی جماعتوں کو اور سیاسی قیادت کو بھی آئین قانون کی عملدراری کا احساس کرنا ہے بلکہ وہ خود بھی خود کو آئین قانون کے تابع تصور کریں۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے مذاکرات سیاسی طریقے سے ہونے چاہئیں ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس حوالے سے فوج کی طرف دیکھے، ماضی میں اسٹیبلشمنٹ مستحکم ہوتی رہی جبکہ آج اس کی پوزیشن کمزور ہے سیاسی قوت ہی سیاسی ڈائیلاگ کرے اور اس حوالے سے سول سوسائٹی اور میڈیا پل کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔
