اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو بریف کیا ہے کہ وہ جلد ہی سستی بجلی کی پیداوار پر مبنی روف ٹاپ سولر پینلز کے لیے نیٹ میٹرنگ کی پالیسی ختم کردے گا۔
حکومتی زرائع کا کہنا تھا کہ روف ٹاپ نیٹ میٹر پالیسی کی بجائےگراس میٹرنگ پالیسی اپنائی جائے گی جس کا مقصد صارفین کو انتہائی مہنگی اور ناقابل برداشت گرڈ بجلی فروخت کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے عالمی قرض دہندہ کو چین سے 15.4 بلین ڈالر مالیت کے توانائی کے قرضے کی تنظیم نو کے اپنے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزارت توانائی نے سولر پینل پالیسی کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے بارے میں آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا ہے جس سے صارفین کو انتہائی مہنگی گرڈ بجلی پر انحصار کم کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو مطلع کیا کہ وہ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو چھتوں کے سولر پینلز کے لیے مجموعی میٹرنگ سے تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
سولر پینلز پر بڑھتا ہوا انحصار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی کو متاثر کر رہا ہے جنہیں اب اندرون ملک بجلی کی پیداوار کی صورت میں مقابلے کا سامنا ہے۔
