ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مدین واقعے میں ملوث تین اہم مرکزی ملزمان سمیت 30 گرفتار

سوات / پشاور: خیبرپختونخوا کے علاقے سوات مدین میں سیاح کو توہین مذہب کے نام پر تشدد کے بعد قتل کرنے میں ملوث تین اہم مرکزی ملزمان سمیت 30 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ڈی پی او سوات نے مدین واقعے کی تحقیقات میں ہونے والی اہم پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ملوث تین اہم ملزمان یاسر، غفران اور قاری انعام الرحمٰن سمیت مزید 9 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کے بعد گرفتاریوں کی تعداد 30 تک ہوگئی۔

مزید پڑھیں: سوات واقعہ، ملزم نے توہین مذہب سے انکار کیا، تھانے لے جانا غلطی ثابت ہوئی، رپورٹ

ڈی پی او نے بتایا کہ واقعے میں ملوث دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں اور انہیں بھی جلد گرفتار کرلیا گیا ہے، قانون کو ہاتھ میں لینے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوات واقعہ؛ قومی اسمبلی میں اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے تحفظ کی قرارداد منظور

انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث تمام نامعلوم افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے اور وہ بھی بہت جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔

اسے بھی پڑھیں: سوات واقعے کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

واضح رہے کہ سوات کے علاقے مدین میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو مقامی افراد نے توہین مذہب کے الزام پر پولیس سے چھڑوا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر زندہ جلادیا تھا جبکہ مشتعل مظاہرین نے تھانے کو بھی آگ لگادی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں