ہیمبرک(رپورٹ :مطیع اللہ)جرمنی نے ’انتہا پسندی‘ کے الزامات پرایران نواز مسلم تنظیم پر پابندی عائد کر دی۔ جس پر “انتہا پسندی’’ کافروغ اور ایران اور حزب اللہ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ اور کمیونٹی نے بدھ کے روز اسلامک سینٹر ہیمبرگ اور اس کے قومی ملحقہ اداروں پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اس کے مشن کو “آئین کے خلاف’’ قرار دیا‘ وزارت نے یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ یہ گروپ “ایران کے سپریم لیڈر‘‘ کے براہ راست نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے’’ اور “آزاد اور جمہوری آئینی نظام سے باہر’’ جرمنی میں اسلامی انقلاب کے قیام کے مفادات میں کام کرتا ہے۔ابتدائی طور پر 2عبادتگاہوں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ اس سے منسلک دیگر کی بندش کیلیے تیاریاں کی جارہی ہیں۔دوسری جانب اسلامی مرکز پر پابندی پر ایران نے جرمن سفارت کار کو طلب کر لیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کا کہنا ہے کہ ایران نے اسلامی مرکز ہیمبرگ (IZH) پر پابندی کے جرمنی کے فیصلے پر تہران میں جرمن سفیر کو طلب کیا ہے اور احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے ۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق وزارتِ داخلہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے حکام نے بدھ کو جرمنی کی 8 ریاستوں میں تنظیم کی 53 جگہوں کی تلاشی لی‘ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں مشہور ‘بلیو مسجد’ کی بھی تلاشی لی گئی۔اسلامک سینٹر یا مرکز اسلامی کے زیرِ انتظام ہیمبرگ میں مسجدِ امام علی بھی ہے جو مقامی طور پر ‘بلیو مسجد’ کے نام سے مشہور ہے۔ہیمبرگ میں قائم آئی زیڈ ایچ کے علاوہ فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں اس تنظیم کے ذیلی گروپس پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔آئی زیڈ ایچ کی جانب سے بدھ کی صبح تک پابندی کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تھا اور ان کی ویب سائٹ بھی قابلِ رسائی نہیں تھی۔