
ڈھاکا/ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس میں کل سے آج تک مجموعی طور پر 91 سے زاید افراد جاں بحق اور 200 سے زاید زخمی ہوگئے، کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات بھی ہوئے، متعدد پولیس تھانے اور 2 ارکان اسمبلی کے مکانات بھی نذر آتش کردیے گئے، حکومت نے شام 6 بجے کے بعد کرفیو کے نفاذ اور ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر بند کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ بنگلادیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے مسلح افواج کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی حالت میں عوام کی جان و مال اور اہم ریاستی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائیں جبکہ بنگلادیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے کہا ہے کہ سڑکوں پر پرتشدد مظاہرے کرنے والے طلبا نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں، میں اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرتی ہوں ان کو کچل دیں۔ علاوہ ازیں بنگلادیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف نے کہا ہے کہ پاکستانی طلبہ کی حفاظت اولین فرض ہے، طلبہ سے رابطے میں ہیں، کئی طلبہ وطن واپس جاچکے، 6 آج روانہ ہورہے ہیں، دیگر کو پاکستان ہائی کمیشن کی عمارت میں شفٹ کر دیا جائے گا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش میں کوٹا سٹم اور امتیازی سلوک کے خلاف طلبا کی تحریک گزشتہ روز کے اعلان کے بعد اب سول نافرمانی کی تحریک میں تبدیل ہوگئی جس کے بعد کو ملک کے کئی حصوں میں مظاہرین کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکمراں جماعت عوامی لیگ کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں آج کے روز 23 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق منشی گنج میں مظاہرین اور عوامی لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے جبکہ رنگ پور میں 4 افراد ہلاک اور 100 سے زاید زخمی ہوئے۔ ضلع پبنا کے قصبے میں عوامی لیگ کے کارکنوں کی مبینہ فائرنگ سے 3 طلبا 19 سالہ زاہد اسلام، 16 سالہ محبوب الحسین اور 17 سالہ فہیم جاں بحق ہوگئے جبکہ 50 افراد زخمی ہیں۔ سراج گنج میں مظاہرین کی عوامی لیگ کے کارکنوں اور پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی جس میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بوگرہ میں بھی عوامی لیگ کے کارکنوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک ہو گئے۔ کومیلا کے علاقے ڈیبیڈوار میں عوامی لیگ اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران جوبو دل کا ایک کارکن جاں بحق اور 3 بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے۔ ماگورا میں جھڑپوں میں چھاترا دل لیڈر سمیت 2 افراد مارے گئے۔ مزید برآں کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات بھی ہوئے۔ متعدد پولیس تھانے، گاڑیاں اور 2 ارکان اسمبلی کے مکانات بھی نذر آتش کردیے گئے۔ علاوہ ازیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے کہا کہ ملک بھر میں احتجاج اور مظاہروں کے نام پر تھانوں پر حملے کرنے والے، املاک کو نقصان پہنچانے اور بے امنی پھیلانے والے ملک کے استحکام اور ترقی کے دشمن ہیں، ایسے پرتشدد احتجاج طلبہ نہیں دہشت گرد کرتے ہیں، یہ دہشت گردی ہے اور میں اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرتی ہوں ان کو کچل دیں۔ دریں اثنا عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کے آرمی چیف نے کہا کہ فوج عوام کے اعتماد کی علامت ہے، اسے ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، ہم ہمیشہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری افواج عوام کی حفاظت کی خاطر اور ریاست کی کسی بھی ضرورت کیلیے مستعد اور مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کیکہ ہر ڈپارٹمنٹ اپنے فرائض ایمانداری اور خلوص نیت سے ادا کرے۔ علاوہ ازیں بنگلا دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہپاکستان طلبہ کی حفاظت اولین فرض ہے، طلبہ سے رابطے میں ہیں، بنگلا دیش میں 144 پاکستانی اسٹوڈنٹس تھے، جن میں سے 44 طلبہ پہلے ہی وطن واپس آچکے ہیں، 6 طلبہ کو ان کی خواہش پر کل پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔ ہائی کمشنر اور ہائی کمیشن پاکستانی طلبہ سے مسلسل رابطے میں ہے، طلبا کو پاکستان ہائی کمیشن کی عمارت میں شفٹ کر دیا جائے گا۔