ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پختونخوا میں بے امنی سے کاروبار منتقل، صوبے  میں بے روزگاری بڑا چیلنج بن گیا



پشاور:

خیبر پختونخوا میں بے امنی سے کاروبار منتقل ہونے کے نتیجے میں صوبے میں بے روزگاری بڑا چیلنج بن گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں اور صنعتکاروں کے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث دوسرے صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبر پختون خوا میں بیروز گارى میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کى روزمرہ زندگی انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا کرایہ، بجلی، گیس اور پانی کے بلز ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ بچوں کے اسکولوں کی فیس اور دیگر اخراجات نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

شہریوں کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ہر چیز کی قیمت دگنی ہو گئی ہے جب کہ آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ شہر میں تعمیراتی کام نہ ہونے کے برابر ہے اور  مزدور در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

واضح رہے کہ خیبر پختون خوا میں بےروزگاری کی شرح 8.8فیصد ہے جو چاروں صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔ 

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بےروزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر صوبے میں بے روزگاری بڑھی تو جرائم کی شرح میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مہنگائی کنٹرول کرے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کرے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں