اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے مبینہ انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے تازہ فضائی کارروائی کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے مبینہ انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے تازہ فضائی کارروائی کی ہے، یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے جنوبی علاقے میں المصیلح اور النجاریہ کے درمیانی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں ایک بلڈوزر اور تعمیراتی مشینوں کے شوروم پر بمباری کی گئی، دھماکوں کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور شوروم میں موجود متعدد گاڑیاں اور بھاری مشینری مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فضائی حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں جنہیں نزدیکی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، بمباری کے نتیجے میں کئی بجلی کے کھمبے اور تاریں بھی تباہ ہو گئیں جس سے اردگرد کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حملے کے بعد فضا میں شدید دھویں کے بادل چھا گئے جبکہ امدادی ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کے اہلکار آگ پر قابو پانے اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف رہے۔ فضائی حملوں کے بعد جنوبی لبنان کے مختلف حصوں میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں حزب اللہ کے اُن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ داغے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، تاہم جانی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک روز قبل غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا تھا، س معاہدے کے تحت حماس کے 11 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اسرائیلی فورسز غزہ کی مقررہ لائن سے پیچھے ہٹنے کا عمل شروع کر چکی ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کے متعدد شہری اپنے گھروں کو واپس جانے لگے ہیں، تاہم سرحدی علاقوں میں فضا اب بھی کشیدہ ہے اور لبنان کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات کے باعث اسرائیلی فوج ہائی الرٹ پر ہے۔