راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج کا دشمن نہیں ہوں بطور سیاستدان پالیسی پر اس لیے تنقید کرتا ہوں تاکہ کوئی حل نکلے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں وکلاءاور پارٹی رہنمئوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اپنی فیملی فوج میں ہے، فوج سے میری کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ فوج کو پسند کرتا ہوں، فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور شہدا بھی ہمارے ہیں لیکن جس چیز سے ملک کو نقصان ہو رہا ہو اس پر تنقید کرنا فرض ہے۔
غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند ہونا چاہیے، افغانستان پر حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے کےلیے آپ کو ایک پالیسی بنانی ہے، صرف ملٹری آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کو ختم نہیں کرسکتے، اس کےلیے آپ کو سیاسی حل بھی ڈھونڈنا ہے۔
میں سیاست دان ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز کا حل سیاست میں سیاسی طریقے سے بھی ہونا چاہیے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دہشت گردی کا خاتمہ افغانستان سے بات کیے بغیر ممکن ہو۔
افغانستان سے جنگ کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوگا، افغان حکومت کو لے کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا، نئی حکومت ایسی پالیسی بنائے کے بغیر نقصان دہشت گردی کا خاتمہ ہو، اگر دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ملٹری آپریشن ضروری ہے تو سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔