شمالی شہر ہمبرگ کے سیوریج کے نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق جرمن حکام نے تصدیق کی ہے کہ شمالی شہر ہمبرگ کے سیوریج کے نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے، جس کے بعد ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور مزید نمونے لینے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
جرمنی کے صحت کے ادارے رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) نے بتایا کہ سیوریج کے ایک ٹیسٹ میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے، جو دنیا سے پولیو ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ سیوریج میں وائرس ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نگرانی کا نظام صحیح چل رہا ہے، اب تک پولیو کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔
جرمنی میں وائلڈ پولیو وائرس کا یہ پہلا سراغ 30 سال بعد ملا ہے، 2021 میں ماحولیاتی نمونے لینے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور تب سے یہ پہلا کیس ہے، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2010 کے بعد یورپ میں بھی پہلی بار ایسا ہوا ہے۔
حکام کے مطابق مثبت نمونہ 6 اکتوبر کے ہفتے میں لیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ چونکہ زیادہ تر لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں اس لیے عام عوام کے متاثر ہونے کا خطرہ بہت کم ہے اور اب تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
آر کے آئی نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ وائرس کسی ایک ایسے شخص سے آیا جو اس وقت ہمبرگ میں موجود تھا اور یہ واقعہ غیر معمولی ضرور ہے مگر حیرت انگیز نہیں۔
پولیو ایک ایسا وائرل مرض ہے جو فالج یا موت کا سبب بن سکتا ہے، لیکن ویکسین سے اس کا بچاؤ ممکن ہے، وائلڈ پولیو اب صرف افغانستان اور پاکستان میں پایا جاتا ہے۔
برلن میں چاریٹے ہسپتال سے تعلق رکھنے والی ماہر بیئٹے کامپمان نے کہا کہ یہ واقعہ ویکسی نیشن کی اہمیت کو ثابت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی پولیو ہو تو ہر جگہ اس کا خطرہ موجود رہتا ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل فنڈنگ کی ضرورت ہے۔