یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) اگلے ماہ ہونے والے سالانہ بین الاقوامی گانے کے مقابلے( یوروویژن) میں اسرائیل کی شمولیت کے بارے میں ووٹ لے سکتی ہے، یہ مقابلہ ہر سال یورپی ممالک کے درمیان ہوتا ہے، جہاں ہر ملک ایک گلوکار یا ٹیم بھیجتا ہے اور سب کے ووٹ سے جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق EBU کی جنرل اسمبلی 4 اور 5 دسمبر کو اجلاس کرے گی، جس میں مقابلے کے ووٹنگ سسٹم میں حالیہ تبدیلیوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا، یہ تبدیلیاں مقابلے میں شفافیت بڑھانے کے لیے کی گئی ہیں کیونکہ گزشتہ سال اسرائیلی حکومت کی مداخلت کے الزامات سامنے آئے تھے۔
نئی قواعد کے مطابق کسی بھی حکومت یا ریاستی ادارے کی جانب سے ہونے والی تشہیری مہم جو نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے، اب منع ہے، ہر شخص کے ووٹ کی زیادہ سے زیادہ تعداد بھی 20 سے 10 کر دی گئی ہے، نیم فائنل میں پیشہ ور جرائز کی شمولیت دوبارہ بحال کی جائے گی تاکہ عوامی ووٹ اور جرائز کے درمیان توازن قائم رہے۔
اسرائیل کی شمولیت پر یورپی ممالک کے ردعمل مختلف ہیں، اسپین، ہالینڈ، سلووینیا اور آئس لینڈ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل حصہ لے تو وہ مقابلے سے نکل جائیں گے۔
آئرلینڈ نے بھی کہا کہ اسرائیل کی شرکت کی صورت میں مقابلے میں نہیں حصہ لے گا، اسرائیل ایک ظالم ملک ہے جس نے بے شمار بچوں کا قتل کیا ہے۔
دوسری طرف جرمنی اور آسٹریا نے اسرائیل کے شامل رہنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یوروویژن کا ایک لازمی حصہ ہے۔
یوروویژن 2026 کا مقابلہ آئندہ مئی میں وینس میں ہوگا، جس میں اسرائیل کی شمولیت کا حتمی فیصلہ EBU کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔