ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صدر نے وزیراعظم کی مشاورت پر شہادت، اقلیتی حقوق اور نرسنگ تعلیم کے قوانین منظور کرلیے

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر ملک میں قانون سازی کے ایک اہم مرحلے کو مکمل کرتے ہوئے متعدد کلیدی بلوں کی منظوری دے دی ہے، جسے حکومتی ایجنڈے کی پیش رفت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق صدر مملکت نے مختلف شعبوں سے متعلق قوانین پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قانونِ شہادت (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دی ہے، جسے عدالتی نظام میں بہتری اور شواہد کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کی جانب ایک اہم اصلاح تصور کیا جا رہا ہے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق اس ترمیمی قانون کا مقصد عدالتی کارروائیوں میں شفافیت کو فروغ دینا، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ شواہد کو قابلِ قبول بنانا اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کم ہونے اور انصاف کے معیار میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

صدر مملکت نے اسی سلسلے میں کنگ حمد یونیورسٹی آف نرسنگ اینڈ ایسوسی ایٹڈ میڈیکل سائنسز بل 2025 کی بھی توثیق کر دی ہے، جسے صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

قانونی ذرائع کے مطابق اس قانون کے تحت نرسنگ اور طبی معاون شعبوں میں معیاری تعلیم و تربیت کے مواقع میں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف صحت کے نظام کو تقویت ملے گی بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔

اسی طرح صدر آصف علی زرداری نے نیشنل کمیشن فار مائنورٹیز رائٹس بل 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کو ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور آئینی ضمانتوں پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس کمیشن کے قیام سے اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل، شکایات کے ازالے اور پالیسی سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی، جو پاکستان کے آئینی وعدوں کی عملی تعبیر ہے۔

ایوانِ صدر کے مطابق صدر مملکت نے دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 کو صوبائی مشاورت کی ضرورت کے پیشِ نظر نظرثانی کے لیے وزیراعظم کو واپس بھجوا دیا ہے۔

اس حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر دانش اسکولز کا قیام صوبوں میں کیا جانا ہے تو متعلقہ صوبائی حکومتوں سے پیشگی مشاورت آئینی اور انتظامی طور پر ناگزیر ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں