مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والا ہولناک حملہ ایک بار پھر بھارتی سیاست میں بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں مودی حکومت پر اس واقعے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بھارتی رہنما سنتان پانڈے کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ انکشافات نے پلوامہ حملے کے پس منظر پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں ماضی میں مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سنتان پانڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ پلوامہ حملہ کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اسے اندرونی طور پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک منظم منصوبے کے تحت انجام دیا گیا۔ بی جے پی حکومت نے عوامی جذبات کو بھڑکانے اور اپنی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اس واقعے کو بطور فالس فلیگ آپریشن استعمال کیا۔
سنتان پانڈے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آج تک یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ حملے میں استعمال ہونے والا آر ڈی ایکس کہاں سے آیا جب کہ بغیر کسی شفاف تحقیقات کے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری ریاست میں ایسے سنگین واقعات کے بعد غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہوتی ہیں، مگر پلوامہ معاملے میں یہ اصول یکسر نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی جیسے حساس واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ سنتان پانڈے کے مطابق بمبئی حملے، پلوامہ واقعہ، سمجھوتا ایکسپریس اور پہلگام جیسے واقعات کو بنیاد بنا کر عوامی جذبات کو بار بار استعمال کیا گیا تاکہ اقتدار کو مضبوط کیا جا سکے۔
بھارتی رہنما کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت اور شواہد کے پاکستان پر الزام تراشی مودی حکومت کا مستقل وتیرا بن چکا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھی اور خود بھارت کے اندر بھی سوالات جنم لیتے رہے۔ بھارتی عوام اب آہستہ آہستہ ان ہتھکنڈوں کو پہچاننے لگی ہے اور حکومت سے جواب طلبی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے سے متعلق سامنے آنے والے یہ انکشافات نہ صرف مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ بھارت میں جمہوری اقدار اور شفافیت پر بھی ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے وقت میں بھارتی سیاست پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔