ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

متوفی ملازمین کے کوٹے پر ورثا کو نوکری دینے کا فیصلہ برقرار


اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے متوفی سرکاری ملازمین کے کوٹے پر بچوں اور ورثا کو ملازمت دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سندھ حکومت کی اپیلیں خارج کردیں۔ 

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔عدالت کے مطابق سندھ سول سرونٹس قانون کا رول 11-A  فلاحی اور مفید قانون تھا جس کا مقصد دوران ملازمت وفات پانے والے، معذور یا نااہل قرار دیئے گئے سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو سہارا دینا تھا۔

ایسے فلاحی قوانین کی تشریح ہمیشہ وسیع  مقاصد پر مبنی اور ہمدردانہ انداز میں کی جانی چاہیے تاکہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔

کسی سرکاری ملازم کی وفات کے وقت اس کے بچے نابالغ ہوں اور بیوہ کو ملازمت نہ دی گئی ہو تو بچوں کے بالغ ہونے پر درخواست دینے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد کیس  کا حکم کالعدم قرار دینے کا فیصلہ آئندہ کے لیے نافذ ہوگا اور اس کا اطلاق ماضی کے معاملات پر نہیں ہوگا۔

دریں اثنا جسٹس ہاشم کاکڑ کے بنچ نے منشیات کے مقدمے میں اہم آئینی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143اے کے منافی ہے۔ 


Express News

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری


Express News

سپریم کورٹ، پیر سے شروع ہونے والے آئندہ عدالتی ہفتے میں مقدمات کی سماعت کے لیے 3 بینچز تشکیل

درخواست گزار ساجد خان کے خلاف ایف آئی آر کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ کے وفاقی قانون کے تحت درج کی گئی تھی تاہم ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے انہیں خیبر پختونخوا کے قانون کے  تحت سزا سنائی جو وفاقی قانون کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی بھی معاملے میں وفاقی قانون کو صوبائی قانون پر فوقیت حاصل ہے، عدالت نے ساجد خان کی  صوبائی قانون کے تحت سزا کالعدم کرکے وفاقی قانون کے تحت پانچ سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ 

عدالت نے   نابالغ لڑکے کے قتل  کے مقدمہ میں ملزم  کی عمرقید میں نرمی کرتے ہوئے 20 سال قید بامشقت میں تبدیل کردی۔

عدالت کے مطابق واقعہ اچانک جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں پیش آیا جس میں پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہیں ہوتی۔

مقتول کے ورثا کو دی جانے والی تین لاکھ روپے کی دیت اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا برقرار رہے گی۔ واقعہ 7 اپریل 2012 کوچشتیاں میں پیش آیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں