دوحہ: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کسی بھی عسکری کارروائی کے خطے اور عالمی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خبردار کیا کہ اس وقت کی موجودہ کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے نتائج نہ صرف خطے میں بلکہ اس سے باہر بھی انتہائی سنگین اور تباہ کن ہو سکتے ہیں، اس قسم کے تصادم سے ہر ممکن طور پر بچنا چاہیے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ تنازعات اور فوجی کارروائیاں پوری دنیا کے لیے ایک بڑی آزمائش ثابت ہو سکتی ہیں اور ان کے اثرات براہ راست خطے کی استحکام اور امن پر مرتب ہوں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کے دفتر نے ایران کے خلاف متعدد آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے تاہم ایران نے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں، لیکن حالات کو مزید خراب نہیں ہونے دیں گے۔
قطر کی جانب سے اس موقف کا اظہار اس وقت کیا گیا جب عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی کر رہے ہیں۔