ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کراچی: گلشنِ معمار میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی، مرکزی ملزم گرفتار

کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں ایک افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 17 سالہ گھریلو ملازمہ کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل معائنے کی رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تفتیش کے دوران رہائشی اپارٹمنٹ یونین کے سابق صدر کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جسے مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تین افراد نے اسے زبردستی اغوا کیا اور تشدد کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، واقعے کے بعد اسے شدید جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ گہرے ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے اثرات اب تک برقرار ہیں۔

واقعے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے متاثرہ لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن قانونی اور اخلاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق کڑی سزا ملنی چاہیے۔

متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے ہراساں بھی کیا گیا، پولیس کی غفلت کے باعث ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او گلشنِ معمار کو معطل کر دیا۔ آئی جی سندھ کی مداخلت کے بعد واقعے کا مقدمہ اغوا، زیادتی اور تشدد کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد دیگر ملوث افراد کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ تفتیش کو شفاف اور غیر جانبدار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں