پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) کے چیرمیین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ اگر واقعی سیاسی مذاکرات کو آگے بڑھانا مقصد ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے اعتماد سازی ناگزیر ہے اور اعتماد کی فضا اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب بانیٔ پی ٹی آئی کو ان کے اہلِ خانہ اور جماعتی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیرمیین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف ماضی میں بھی مذاکرات کی حامی رہی ہے اور آج بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے، مذاکرات بیانات سے نہیں بلکہ اعتماد بحال کرنے والے فیصلوں سے ہی آگے بڑھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات سے متعلق ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے، تاہم مذاکرات اسی صورت بامقصد ثابت ہو سکتے ہیں جب سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات کیے جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت سے ملاقات کی سہولت دی جائے، اسی طرح بشریٰ بی بی کو بھی ان کے خاندان سے ملنے دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ملاقات کا باقاعدہ دن مقرر ہے اور امید ہے کہ اس بار یہ ملاقات یقینی بنائی جائے گی، کیونکہ ایسے اقدامات کے بغیر مذاکرات کا عمل محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجا نے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت اپوزیشن سے رابطے میں ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، کراچی سمیت مختلف شہروں میں عوامی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ موجودہ نظام سے بیزار ہو چکے ہیں اور اس کے خلاف کھڑے ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ خود حکومتی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت بے گناہ افراد کو سزائیں دی جاتی ہیں اور پھر برسوں تک ان کی اپیلیں نہیں سنی جاتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک انصاف، شفافیت اور آئینی بالادستی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، محض مذاکرات کا شور عوام کو مطمئن نہیں کر سکتا۔