امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک کو دی جانے والی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے لی ہے اور کہا ہے کہ اس حوالے سے نیٹو کے ساتھ مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ہونے والی ملاقات نہایت مثبت رہی، جس کے نتیجے میں گرین لینڈ سے متعلق مستقبل کے ایک ممکنہ معاہدے کا فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے امریکا کے ساتھ ساتھ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت کے باعث یورپ پر یکم فروری سے مجوزہ ٹیرف نافذ نہیں کیے جائیں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ مذاکرات کی ذمے داری نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور دیگر اعلیٰ حکام سنبھالیں گے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ جو یورپی ممالک گرین لینڈ پر امریکی مؤقف کی مخالفت کریں گے، ان پر یکم فروری سے تجارتی ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ اس بیان کے بعد یورپی ممالک نے امریکی صدر کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا تھا۔