ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

افغانستان سے کارروائیاں نہ رکیں تو ردعمل سخت ہوگا، وزیر دفاع کا عندیہ

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں بڑھتی دہشتگردی کے تناظر میں سخت پیغام دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان مؤثر جواب دینے پر مجبور ہوگا۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حتمی تاریخ دینا ممکن نہیں، تاہم حالات کا تقاضا ہے کہ جلد ردعمل دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور وہاں کی انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام یا غیر سنجیدہ ہے تو اسے محض تماشائی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن یہ قابلِ قبول نہیں کہ بات چیت کے دوران ہی حملے جاری رہیں۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ مختلف فریقوں  کی جانب سے پس پردہ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ انہیں بھی تاخیر کے نقصانات کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں پائیدار امن مطلوب ہے تو علاقائی ممالک کو مل کر ذمہ داری لینا ہوگی اور افغانستان کے استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، حتیٰ کہ مالی معاونت جیسے آپشنز بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سویلین حکومت کو عسکری اداروں کی حمایت حاصل ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام ادارے متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ ایک مشترکہ قومی جنگ ہے جسے مل کر جیتنا ہوگا۔

خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبے خصوصاً خیبر پختونخوا دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر آئیں گے، کیونکہ داخلی اختلافات دشمن عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں