جموں/جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے ہفتہ کے روز کہا کہ جب تک جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جاتا، پنچایتی انتخابات کا انعقاد زیادہ مفید ثابت نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں خود منتخب حکومت کو مکمل اختیارات حاصل نہیں ہیں، جس کے باعث وہ مؤثر طریقے سے کام کرنے سے قاصر ہے۔
گاندھی نگر گورنمنٹ اسپتال کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سریندر چودھری نے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام نے منتخب حکومت کے اختیارات کو محدود کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں منتخب پنچایتی راج اداروں کے مؤثر طریقے سے کام کرنے پر بھی اثر پڑے گا۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ نظام کے تحت پنچایتوں کے پاس ترقیاتی کاموں کو مؤثر انداز میں انجام دینے کے لیے مطلوبہ اختیارات دستیاب نہیں ہوں گے۔
سریندر چودھری کا یہ بیان جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق جاری بحث کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں ریاستی درجہ کی بحالی ایک اہم سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی اور بنیادی سطح کے منتخب اداروں کے مؤثر کام کے لیے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ضروری ہے۔