ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دہلی کی ہوا پھر زہریلی، پی ایم 10 آلودگی مسلسل دوسرے دن گزشتہ سال سے بدتر: اجے ماکن

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد شہر کی پی ایم10 آلودگی ایک بار پھر گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں بدتر ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ مسلسل دوسرے دن جاری ہے اور 31 اگست سے اب تک نہیں ٹوٹا۔

اجے ماکن نے اپنی روزانہ کی رپورٹ ’سانس‘ میں بتایا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 ہوا گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے مسلسل دو دن زیادہ خراب رہی ہے۔ اس سے قبل کئی ہفتوں تک جاری رہنے والا طویل سلسلہ 27 اگست کے بعد ٹوٹ گیا تھا، لیکن اب آلودگی کا یہ موازنہ دوبارہ منفی سمت میں چلا گیا ہے۔

ماکن کے مطابق اس سال اب تک 244 دنوں کے اعداد و شمار دستیاب ہوئے ہیں، جن میں 166 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ریکارڈ ہونے والے ان اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ فضائی آلودگی کے رجحان کو مسلسل دیکھا جا سکے۔

تازہ رپورٹ میں وِزیرپور کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ ماکن کے مطابق وِزیرپور مانیٹر پر آج صبح اے کیو آئی 225 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے پیمانے پر ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ سی پی سی بی کی وضاحت کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وِزیرپور کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 14 لاکھ 8 ہزار 80 افراد رہتے ہیں۔ تاہم ماکن نے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص لازماً اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی کو سانس کے ذریعے اندر لے رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف مانیٹر کے گرد موجود آبادی کے حجم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پوری دہلی کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 14.1 لاکھ افراد ایسے فضائی مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماکن کی رپورٹ میں موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے طریقے کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس طریقے میں ہوا، بارش، درجہ حرارت اور دیگر موسمی عوامل کے اثر کو اعداد و شمار سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ آلودگی میں موجود بنیادی رجحان کو زیادہ واضح طور پر دیکھا جا سکے۔ ماکن کا کہنا ہے کہ اس طرح محض موسمی حالات کی تبدیلی کو آلودگی میں اضافے یا کمی کی وجہ قرار دینے کے بجائے طویل مدتی رجحان پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے اور ریکارڈ کیے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں