نئی دہلی: سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے سمستھا کیرالہ جمعیت العلماء کے جنرل سکریٹری مفتی کنتھاپورم اے پی ابوبکر مسلیار کے خواتین سے متعلق بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو گھروں تک محدود کرنے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں اور عورتیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گی۔
مفتی کنتھاپورم نے خواتین کو اپنے گھروں تک محدود رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی پلیٹ فارم پر خواتین کی موجودگی ’بڑی تباہی‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ شبنم ہاشمی نے ان خیالات کو ’رجعت پسند اور ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ خواتین کے تحفظ کا نہیں بلکہ پدرانہ کنٹرول اور ان کی آزادی محدود کرنے کی کوشش کا ہے۔
شبنم ہاشمی نے کہا کہ مفتی کنتھاپورم کو اسلامی اسکالر کی حیثیت سے خواتین کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہندوستانی آئین کے ساتھ ساتھ قرآن اور اسلامی تاریخ کے بارے میں اپنی سمجھ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو ایسی اشیا کے طور پر پیش کرنا جنہیں عوامی زندگی میں ’نمائش‘ کے لیے پیش نہیں کیا جانا چاہیے یا جن کی موجودگی ہی کو خطرناک قرار دیا جائے، محض توہین آمیز نہیں بلکہ غیر انسانی رویہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عورتیں جائیداد یا کسی کی ملکیت نہیں ہیں اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت، تعلیم، ملازمت، سفر، اظہارِ خیال، تنظیم سازی یا عوامی زندگی میں شرکت کے لیے کسی مذہبی اتھارٹی کی اجازت درکار نہیں۔ ہندوستانی آئین ہر شہری کو، جنس، ذات یا مذہب سے قطع نظر، مساوات، وقار اور نقل و حرکت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔
شبنم ہاشمی نے کہا کہ اگر مفتی کنتھاپورم اپنے موقف کے حق میں اسلام کا حوالہ دیتے ہیں تو انہیں اسلامی تاریخ پر بھی نظر ڈالنی چاہیے، کیونکہ مسلم خواتین مختلف ادوار میں عالم، معلم، تاجر، مصنف، سیاسی کارکن اور علم و دانش کی سرپرست کے طور پر عوامی زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے کیرالہ کی معروف ملیالم مصنفہ خدیجہ ممتاز اور کرناٹک کی کنڑ مصنفہ، کارکن اور وکیل بانو مشتاق کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق خدیجہ ممتاز نے مسلم خواتین پر عائد پابندیوں اور پدرانہ تشریحات کو اپنی تحریروں میں چیلنج کیا، جبکہ بانو مشتاق کی کتاب ہارٹ لیمپ نے بین الاقوامی بکر پرائز جیتا اور مسلم معاشروں میں خواتین اور لڑکیوں کی روزمرہ زندگی اور جدوجہد کو نمایاں کیا۔
شبنم نے کہا کہ ان خواتین نے عورتوں پر اختیار کا دعویٰ کرنے کے بجائے ان کی بات سنی، ان کی زندگیوں کے بارے میں لکھا اور طاقت کے مراکز پر سوال اٹھایا۔ ان کے بقول یہی فرق ہے ’عورتوں کے بارے میں بولنے‘ اور ’عورتوں کے ساتھ کھڑے ہونے‘ میں۔ انہوں نے کیرالہ کی سماجی اصلاحات، خواندگی اور عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست خواتین کو گھروں تک محدود کرنے والے جاگیردارانہ تصورات کی واپسی سے بہتر کی مستحق ہے۔ انہوں نے جسٹس فاطمہ بیوی کا بھی ذکر کیا، جو ہندوستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج تھیں۔
شبنم ہاشمی نے جیوتی راؤ پھولے، ساوتری بائی پھولے اور فاطمہ شیخ کے تعلیمی مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اصلاح پسندوں نے 1848 میں پونے میں لڑکیوں کے لیے ہندوستان کے اولین اسکولوں میں سے ایک قائم کیا تھا۔ ان کے مطابق تقریباً دو صدیاں قبل ہی یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو عائد پابندیوں سے آزاد کرنا ایک منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ باعثِ افسوس ہے کہ اتنے عرصے بعد بھی خواتین کو گھروں تک محدود رکھنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’تاریخ آگے بڑھی ہے، خواتین آگے بڑھی ہیں اور ہندوستان آگے بڑھا ہے۔ یہ رجعت پسند آوازیں ہمیں پیچھے لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘ شبنم ہاشمی نے ایسے بیانات کے سیاسی پہلو پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی دباؤ میں ہوتی ہے تو عوام کی توجہ خواتین کے لباس، نقل و حرکت، اخلاقیات، مذہب اور ’روایت‘ جیسے موضوعات کی طرف منتقل کرنا سیاسی طور پر سہل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات فرقہ وارانہ پولرائزیشن پر انحصار کرنے والی قوتوں کے لیے مفید ہتھیار بن سکتے ہیں اور انہیں ہندو مسلم کشیدگی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق گجرات سمیت ملک میں اس طرح کی سیاست بارہا دیکھی جا چکی ہے۔ شبنم نے کہا کہ ملک بھر میں جنریشن زی اور جنریشن الفا کے نوجوان اقتدار سے سوال کر رہے ہیں، احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور خوف، کنٹرول اور خاموشی کی سیاست کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں خواتین کی نقل و حرکت، تعلیم اور عوامی زندگی میں شرکت کو محدود کرنے کی بحث کو دوبارہ زندہ کرنا معاشرے کو بنیادی مسائل سے دور کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب ملک کو بے روزگاری، معاشی عدم تحفظ، تعلیم، سماجی انصاف، جمہوری آزادیوں اور اقتدار میں موجود افراد کے احتساب جیسے مسائل پر بحث کرنی چاہیے تو خواتین کے عوامی زندگی میں کردار کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے۔ شبنم ہاشمی نے کہا کہ خواتین کو آزادی سے ’محفوظ‘ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان لوگوں کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے جو ان کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’عورتیں پیادہ نہیں ہیں۔ چاہے بولنے والا مذہبی پیشوا ہو، سیاست دان ہو یا کوئی اور، خواتین کی آزادی کوئی سودے بازی کا معاملہ نہیں۔ مسلم خواتین پیادہ نہیں ہیں، ہندو خواتین پیادہ نہیں ہیں۔ کوئی عورت جائیداد نہیں ہے۔‘‘ شبنم نے زور دیا کہ مذہبی اختیار کو آئینی اخلاقیات کی خلاف ورزی کا لائسنس نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے مطابق خواتین گھروں میں واپس دھکیلے جانے کی کوششوں کو خاموشی سے قبول نہیں کریں گی اور اپنی آزادی، مساوات اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔