نئی دہلی/دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی کی جانب سے فیس بک اکاؤنٹ تک رسائی محدود کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس سورنا کانتا شرما کی عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آغا سید روح اللہ مہدی رکن پارلیمنٹ ہیں اور ایک متنازع حکم کے ذریعے ان کے فیس بک پیج تک رسائی مکمل طور پر محدود کر دی گئی ہے، جبکہ اس حوالے سے انہیں کوئی پیشگی نوٹس یا اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
دوسری جانب میٹا پلیٹ فارمز کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیس بک پیج کو ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے موصول ہونے والے نوٹس کی بنیاد پر ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے اس نوٹس کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا۔
آغا سید روح اللہ مہدی کے وکیل نے اس پر مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اس مبینہ حکم کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت میٹا کو شکایات کے ازالے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
وکیل کے مطابق آغا سید روح اللہ مہدی نے میٹا کے گریوینس ریڈریسل آفیسر کو باقاعدہ نمائندگی بھیجی تھی، جس پر میٹا کو 24 گھنٹوں کے اندر جواب دینا تھا، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ اب تک کسی نے بھی ان کے فیس بک پیج پر موجود کسی مخصوص مواد کی نشاندہی نہیں کی جسے قابلِ اعتراض قرار دیا گیا ہو۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے معاملے میں جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں اپنی جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی۔
کیس کی اگلی سماعت 30 ستمبر 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔