لندن: انسٹاگرام کی جانب سے ایسے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی سخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو بظاہر حقیقی افراد کے پروفائلز دکھائی دیتے ہیں لیکن دراصل وہ اے آئی کے ذریعے تخلیق کئے گئے فرضی کرداروں پر مبنی ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بڑھتی ہوئی شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ وہ کسی پروفائل کو حقیقی انسان سمجھتے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس شخص کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں اور اس کی تصویر یا شناخت کو اے آئی سے تخلیق کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام ایسے اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بند نہیں کرے گا۔ البتہ، ان کی شناخت واضح کرنے کے لیے لیبل تبدیل کردیا جائے گا، موجودہ ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کو تبدیل کرکے ’اے آئی جنریٹڈ پروفائل‘ کر دیا جائے گا۔
انسٹاگرام کا کہنا ہے کہ ایسے اکاؤنٹس جو فرضی اے آئی شخصیات پر مشتمل ہوں اور ان پر مناسب لیبل موجود نہ ہو، ان کی رسائی کو بھی محدود کردیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ان کی پوسٹس کم صارفین تک پہنچ سکیں گی۔
کمپنی کے مطابق یہ تبدیلی صارفین کی جانب سے ملنے والے فیڈ بیک کے بعد کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے رواں سال کے آغاز میں ’اے آئی کریئٹر‘ لیبل کی آزمائش شروع کی تھی، جس کا مقصد پلیٹ فارم پر اے آئی سے بنائے گئے فرضی کرداروں اور پروفائلز کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنا تھا۔
انسٹا گرام اپنی نئی پالیسی سے صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا چاہتا ہے کہ ان کے سامنے موجود پروفائل کسی حقیقی شخص کا ہے یا اسے اے آئی سے تخلیق کیا گیا ہے۔