ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

این سی اور بی جے پی کے آمنے سامنے احتجاج، ریاستی درجہ، حکمرانی اور ’نامکمل وعدوں‘ پر سیاسی رسہ کشی

سری نگر/جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے بدھ کے روز وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے، آئینی تحفظات اور عوام کے دیگر حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی سری نگر میں این سی کی زیر قیادت حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔دونوں جماعتوں کے احتجاج کے باعث جموں و کشمیر میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ بی جے پی نے بجلی، پانی، سڑکوں اور بے روزگاری جیسے مسائل کو لے کر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ این سی نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر سے متعلق اہم وعدے اب تک پورے نہیں کیے گئے۔
سری نگر میں احتجاج کے دوران جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم اور این سی رہنما سکینہ ایتونے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔سکینہ ایتو نے کہا، ’’ہمارے لیے ہر دن احتجاج کا دن ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ 2019 سے حقوق کی بحالی کا مطالبہ جاری ہے اور مستقبل میں بھی ہر سطح اور ہر پلیٹ فارم پر یہ مطالبہ اٹھایا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ صرف نیشنل کانفرنس تک محدود نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔
سکینہ ایتو نے الزام لگایا کہ این سی کارکنوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر پابندیاں اور چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بی جے پی کارکنوں کو لال چوک میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی گئی، جبکہ این سی کارکنوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔وزیر تعلیم نے آرٹیکل 370 اور 35A کی بحالی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات مبینہ ’’مداخلت اور من مانی‘‘ کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ حکومت کو احتجاج پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ ریاستی درجہ بحال کرنے اور ریزرویشن نظام کو معقول بنانے سمیت اہم معاملات اب تک زیر التوا ہیں، جبکہ حکومت گزشتہ دو برس سے ان معاملات پر فیصلے کی منتظر ہے۔وانی نے کہا کہ حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا صبر کے ساتھ انتظار کیا، تاہم انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیے جانے کی توقعات کے باوجود اس معاملے پر اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
ریزرویشن کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اس سلسلے میں فیصلہ کرکے معاملہ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجا تھا، تاہم دہلی سے بعض سوالات موصول ہونے کے بعد معاملہ دوبارہ کابینہ کو واپس بھیج دیا گیا، لیکن ابھی تک ان سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ معاملہ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا ہے، لیکن اسے بھی تاخیر کا شکار بنایا جا رہا ہے اور ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔‘‘
وانی نے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس کے باعث کئی معاملات زیر التوا ہیں۔انہوں نے اپوزیشن پر عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں آنے والے انتخابی فیصلے کو اپوزیشن نے قبول نہیں کیا۔
دوسری جانب این سی کے چیف ترجمان تنویـر صادق نے کہا کہ احتجاج کا مقصد نئی دہلی میں بی جے پی قیادت کو جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے اور یقین دہانیاں یاد دلانا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم صرف دہلی میں بی جے پی قیادت کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ اب وقت آ گیا ہے۔‘‘
تنویـر صادق کے مطابق پارٹی بی جے پی ہیڈکوارٹر کی جانب پُرامن مارچ نکالنا چاہتی تھی تاکہ مرکزی قیادت کے سامنے ریاستی درجہ، آئینی ضمانتوں اور نوجوانوں سے متعلق ریزرویشن کے مطالبات رکھے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف آئینی ضمانتوں یا خصوصی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ ریاستی درجہ اور نوجوانوں کے لیے ریزرویشن بھی اہم مطالبات ہیں۔
ادھر بی جے پی نے سری نگر میں متوازی احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرمانے احتجاج کو این سی کی زیر قیادت حکومت کی ناکامیوں کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا۔بی جے پی رہنما اور کارکن لال چوک کے کلاک ٹاور کے قریب جمع ہوئے اور سول سیکریٹریٹ کی جانب مارچ نکالنے کا اعلان کیا۔ سنیل شرما نے کہا کہ بجلی، پانی، سڑکوں اور بے روزگاری سمیت مختلف مسائل کے باعث لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔انہوں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ اضافی مالی بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
بی جے پی کے اعلان کردہ سول سیکریٹریٹ مارچ کے پیش نظر لال چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی سخت کردی گئی، جبکہ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ سے سول سیکریٹریٹ کی جانب جانے والی سڑک کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے دوران بند رکھا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں