ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لوگ ناراض ہیں، اسی لیے سڑکوں پر ہیں،عمر سرکار کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت : سنیل شرما

عظمیٰ وی ب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے بدھ کے روز سری نگر میں بی جے پی کے احتجاج کو نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کی مبینہ ناکامیوں کا عکاس قرار دیا۔ بی جے پی رہنما اور کارکنان سول سیکریٹریٹ کی جانب مجوزہ مارچ کے لیے لال چوک میں جمع ہوئے۔لال چوک میں بی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ سے سول سیکریٹریٹ کی جانب جانے والی سڑک کو بند کر دیا گیا تھا۔ علاقے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی۔
گھنٹہ گھر کے قریب احتجاجی اجتماع کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ بجلی، پانی، سڑکوں اور روزگار جیسے مسائل کے باعث لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ حکومت کی ناکامیوں کا عکس ہے جو آج آپ سڑکوں پر دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ بجلی اور پانی کے لیے ترس رہے ہیں، جو سڑکوں کے لیے ترس رہے ہیں اور جو روزگار کے خواہاں ہیں، خاص طور پر نوجوان، انہیں بتایا جا رہا ہے کہ آج انہیں پی ایس سی یا ایس ایس آر بی کے ذریعے ملازمت نہیں ملے گی۔‘‘
سنیل شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت نوجوانوں کو خاطر خواہ روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ ملازمتوں کو نیشنل کانفرنس سے وابستہ ٹھیکیداروں سے جوڑا جا رہا ہے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا، ’’آج اگر آپ کو نوکری چاہیے تو نیشنل کانفرنس کے ٹھیکیدار سے مانگنی پڑتی ہے۔ اگر کہیں ڈاکٹر کی تقرری ہونی ہو تو وہ بھی نیشنل کانفرنس کے ٹھیکیدار کے ذریعے ہوگی۔‘‘
قائد حزب اختلاف نے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس فیصلے سے غریب عوام پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس کے اوپر حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے غریبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ لوگ ناراض ہیں، اسی لیے وہ سڑکوں پر ہیں۔‘‘
سنیل شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی جانب سے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں پر سوال اٹھایا، جن میں آرٹیکل 370، مفت بجلی اور روزگار سے متعلق وعدے شامل تھے۔
انہوں نے کہا، ’عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ نام نہاد آرٹیکل 370 واپس لائیں گے۔ انہوں نے 200 یونٹ مفت بجلی اور ایک لاکھ ملازمتیں دینے کی بات بھی کی تھی۔‘‘انہوں نے عمر عبداللہ کو ریاستی حیثیت کے معاملے پر دوبارہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کا چیلنج بھی دیا۔
سنیل شرما نے کہا، ’’اگر عمر عبداللہ میں ذرا بھی وقار باقی ہے تو ریاستی حیثیت کے معاملے پر انتخابات لڑیں اور گاندربل سے استعفیٰ دیں۔ اگر عوام انتخابات جیت کر آپ کو ریاستی حیثیت دلانے کے لیے بھیجتے ہیں تو ہم آپ کے سامنے سر جھکا دیں گے۔‘‘بی جے پی نے احتجاج کے دوران سول سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خبر فائل کیے جانے تک بی جے پی رہنما اور کارکنان کلاک ٹاور کے قریب موجود تھے اور مارچ شروع نہیں ہوا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں