سری نگر/بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں و کشمیر کے صدر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ست شرما نے کہا ہے کہ پاکستان کو براہِ راست ’’کلین چٹ‘‘ دینے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو حکومت مرکز پر حالات خراب کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتی ہے۔
سری نگر میں احتجاج کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےست شرما نے کہا، ’’جب بھی جموں و کشمیر میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ مرکز حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو لوگ براہِ راست پاکستان کو کلین چٹ دیتے ہیں، انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو اپنی باقی تین سالہ مدت کے دوران جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے، بصورت دیگر اقتدار سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
ست شرما نے کہا، ’’ایسے وزیرِ اعلیٰ سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ ان کی قیادت میں گزرنے والے دو برسوں کے دوران جس ترقی کی توقع تھی، وہ نہیں ہو سکی۔ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں، انہیں عوام معاف نہیں کرے گی۔‘‘انہوں نے کہا کہ عوام اپنا ذہن بنا چکے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنی باقی تین سالہ مدت میں کام کرے یا اقتدار چھوڑ دے۔
بی جے پی جموں و کشمیر صدر نے دعویٰ کیا کہ لال چوک میں 10 ہزار سے زائد بی جے پی کارکنان اور عام شہری جمع ہوئے۔انہوں نے کہا، ’’یہ وہی تاریخی لال چوک ہے جہاں ایک وقت ترنگا لہرانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، لیکن آج یہاں کا ماحول آپ دیکھ سکتے ہیں۔ ہزاروں لوگ پُرامن طور پر جمع ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ حکومت کام کرے یا اقتدار چھوڑ دے۔‘‘