پرانا فون تبدیل کرتے وقت اپنا ڈیٹا بحفاظت نئے فون میں منتقل کرنا انتہائی ضروری ہے، اس معاملے میں ذرا سی غفلت بلیک میلنگ کا سبب بن سکتی ہے۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ آصف اقبال نے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے تحفظ کے حوالے سے ناظرین کو آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح غیر معتبر دکانوں سے ڈیٹا ٹرانسفر کرانے اور مشکوک ایپس انسٹال کرنے سے تصاویر، ویڈیوز اور رابطوں تک رسائی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون ہماری پرائیویسی ذاتی تصاویر، ویڈیوز، پیغامات، رابطہ نمبرز اور دیگر حساس معلومات کا اہم ذخیرہ ہیں، تاہم فون تبدیل کرنے، مرمت کرانے یا ڈیٹا ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں منتقل کرتے وقت معمولی غفلت بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
بعض کیسز میں صارفین کا ذاتی ڈیٹا غیر مجاز طور پر کاپی یا منتقل کیے جانے کا خدشہ ہوتا ہے، چوری ہونے والا ڈیٹا بعد میں فروخت یا بلیک میلنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ نے صارفین کو مشورہ دیا کہ اپنے فون کی مرمت پرائیویسی یا ڈیٹا ٹرانسفر کی صورت میں ممکن ہو تو یہ کام اپنی موجودگی میں کروائیں اور کسی کو بھی حساس معلومات تک غیرضروری رسائی نہ دی جائے، بصورت دیگر صارف کو مشلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اسی طرح موبائل فون پر لازمی طور پر مضبوط پاس ورڈ یا دیگر سکیورٹی فیچر فعال رکھنا چاہیے تاکہ فون گم یا چوری ہونے کی صورت میں ذاتی معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل نہ کی جاسکے۔
آصف اقبال نے موبائل ایپس کے استعمال میں بھی انتہائی احتیاط کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غیر معروف ایپ کو انسٹال کرنے سے پہلے اس کی ساکھ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
کئی ایپس انسٹالیشن کے دوران گیلری، مائیکرو فون، کانٹیکٹ اور لوکیشن سمیت مختلف معلومات تک رسائی کی اجازت طلب کرتی ہیں۔ صارفین کو صرف ضرورت کے مطابق اجازت دینی چاہیے اور جہاں ممکن ہو جیسے محدود رسائی کے آپشن کا انتخاب کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر حساس نوعیت کی تصاویر، ویڈیوز یا نجی معلومات رکھنے والے صارفین کو فون سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل میں کوئی بھی ایپ انسٹال کرنے سے پہلے اس کے ڈویلپر، ریٹنگ، جائزوں اور مانگی جانے والی اجازتوں کو ضرور چیک کیا جائے، جبکہ غیر ضروری اجازتوں کو بند رکھنا بہتر ہے۔