جمع کرائے گئے چالان میں 87 گواہان کے بیانات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ گل پلازا میں فائر سیفٹی کے انتظامات سے متعلق بھی مختلف نکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
فائل فوٹو
کراچی میں گل پلازا آتشزدگی کیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرا دیا، جس میں مارکیٹ کی ایسوسی ایشن کو واقعے کی بنیادی ذمہ داری کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان میں 87 گواہان کے بیانات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ گل پلازا میں فائر سیفٹی کے انتظامات سے متعلق بھی مختلف نکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
چالان کے مطابق تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کی جانب سے کسی غفلت کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
پولیس کے مطابق فارنزک رپورٹ میں جائے وقوعہ سے کسی دھماکا خیز مواد یا آتش گیر مائع کے شواہد نہیں ملے۔ رپورٹ میں بعض اشیا کے جلنے کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
چالان میں گل پلازا کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور عمارت و دکانوں میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف افراد کے بیانات اور حفاظتی انتظامات سے متعلق تفصیلات بھی تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی ہیں۔
پولیس نے چالان مزید قانونی کارروائی اور عدالت کے حکم کے لیے جمع کرایا ہے۔ کیس میں آئندہ کارروائی عدالت کی جانب سے طے کی جائے گی۔