سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مبینہ غیر قانونی مسجد کو منہدم کرنے کے بعد مسجد کے درمیان ایک گہرا کنواں ملا ہے۔ فی الحال پولیس انتظامیہ موقع پر موجود ہے، اور مسجد کے درمیان ملنے والے کنویں کو ڈھانک دیا گیا ہے۔ مسجد کو منہدم کیے جانے کے بعد جب افسران نے ملبہ ہٹایا تو وہاں تقریباً 20 فٹ گہرا کنواں ملا۔ اس کے بعد ’آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا‘ (اے ایس آئی) سے اس کی جانچ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایس ڈی ایم (صدر) سبودھ کمار نے کہا کہ ’’عدالت کے حکم کے مطابق پہلے مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی کی گئی تھی۔ اسی درمیان میں ایک کنواں ملا ہے۔ اسی سلسلے میں اے ایس آئی کے ذریعہ جانچ کی جائے گی۔ اس کے بعد ہی کنویں کے متعلق مزید معلومات دی جائیں گی۔‘‘
انہوں نے دوبارہ کہا کہ ’’اس معاملے میں مزید ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ’آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا‘ اور ’سروے آف انڈیا‘ کی ٹیمیں یہاں آئیں گی اور جانچ کریں گی۔‘‘ وہیں انتظامیہ نے مسجد کو زمین بوس کرنے کے بعد خالی جگہ کو مکمل طور پر برابر کر دیا ہے۔ مسجد کا ملبہ بھی سہارنپور سے 10 کلومیٹر دور پھینکا گیا ہے۔ کلکٹریٹ احاطے سے ایک ایک اینٹ اٹھائی گئی ہے۔ مسجد کے درمیان کنواں ملنے کے بعد انتظامیہ مزید چوکس ہو گئی ہے۔ ادھر سماجوادی پارٹی کا وفد اتوار کے روز پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع 119 سالہ پرانی مسجد کو گرائے جانے کے معاملے میں جانچ اور حقائق جمع کرنے کے لیے پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیں :
ایس پی دفتر کے میمورنڈم کے مطابق سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع مسجد کو سول کورٹ کے حکم پر بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا۔ ایس پی کا دعویٰ ہے کہ 4 ستمبر کی شام ضلع انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مسجد کو سیل کیا جائے گا، لیکن اسے منہدم نہیں کیا جائے گا۔ سماجوادی پارٹی نے کہا کہ واقعے کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنے اور پورے معاملے کی اصل صورتحال جاننے کے لیے وفد سہارنپور پہنچ کر ڈویژنل کمشنر سے ملاقات کرے گا۔ دورے کے بعد وفد اپنی رپورٹ ریاستی دفتر کو سونپے گا۔